میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 55 of 102

میری والدہ — Page 55

۵۵ ہو گئی۔آج جو تمہیں آپ ہو گیا تو مجھے تشویش ہوئی کہ کہیں خواب کا دوسرا حصہ نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ خیر گزری۔یہ واقعہ ۴ یا ۱۵ جنوری کا تھا۔ارجنوری کی صبح کو تار ملا کہ ۱۶ کو چوہدری شمشاد علی خاں صاحب شکار میں اتفاقیہ گولی لگ جانے سے فوت ہو گئے ہیں۔رشتہ کے لحاظ سے اور اس لحاظ سے کہ والدہ صاحبہ کو اُن کے ساتھ اپنے بیٹوں جیسی ہی محبت تھی۔اُن کا مکان گویا ہمارے مکان کے ساتھ کا ہی مکان تھا۔اس کے بعد جب کبھی والدہ صاحبہ کو جالندھر سے گزرنے کا اتفاق ہوتا۔تو دو نفل شکرانہ کے پڑ نہیں کہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم سے میرے بیٹے کو دوبارہ زندگی بخشی۔جون ۱۹۳۲ء میں خاکسار کا تقررمیاں سر فضل حسین صاحب کی رخصت کے سلسلہ میں بعہدہ رکن حکومت ہند عارضی طور پر چار ماہ کے لئے ہوا۔جولائی ۱۹۳۲ء میں ایک روز رات کے دس بجے کے قریب عزیز اسد اللہ خاں کا تارلاہور سے ملا کہ چوہدری جلال الدین صاحب اسٹنٹ پوسٹماسٹر جنرل ( جو ہمارے یک جدی بھائی تھے ) چند گھنٹوں کی بیمار کے بعد فوت ہو گئے ہیں۔والدہ صاحبہ کو ان کے ساتھ بھی بہت اُنس تھا۔اُس وقت عزیز چوہدری بشیر احمد صاحب بھی شملہ میں ہی تھے اور جس وقت تار ملا میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ہم دونوں نے خیال کیا کہ بہتر ہوگا کہ والدہ صاحبہ کو یہ خبر رات کے وقت نہ سنائی جائے۔ورنہ ان کی تمام رات بے قراری میں گزرے گی۔دوسری صبح کو میں اُن کے کمرہ میں گیا تو دیکھا کہ ابھی پلنگ پر ہی ہیں اور بہت افسرده سی نظر آ رہی ہیں۔میں نے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے؟ تو فرمایا کہ رات میں نے دو خواب ایسے دیکھے جن کی وجہ سے مجھے تشویش ہے۔پہلا خواب تو یہ تھا کہ میں نے دیکھا کہ تمہارے والد کسی شخص کو جسے میں پورے طور پر پہچان نہیں سکی۔لیکن