میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 54 of 102

میری والدہ — Page 54

۵۴۰ میری طبیعت پر اثر تھا۔وہ خواب یہ تھا کہ سیاہ بادل اٹھا ہے۔جس سے بالکل اندھیرا ہو گیا ہے۔پھر بجلی گری ہے اور ساتھ ہی مطلع صاف ہو گیا ہے۔لوگ کہتے ہیں خیر گزری ہے کوئی نقصان نہیں ہوا۔البتہ ساتھ کے مکان والوں کا نقصان ہوا ہے۔میں نے دیکھا کہ تمہارے کمرے کی باہر کی دیوار پر ایک سیاہ لکیری رہ گئی ہے۔جہاں بجلی گری تھی اور کوئی نقصان نہیں ہوا۔میں نے اس خواب کے دیکھنے کے بعد صدقہ دیا لیکن طبیعت میں اطمینان نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے اپنے فضل سے تمہاری جان بخشی کی۔خاکسار کو دو دن تو جالندھر ہسپتال میں ٹھہر نا پڑا اور تیسرے دن لاہور ہسپتال میں لے جایا گیا۔دس دن کے قریب وہاں ٹھہرا۔پھر اپنے مکان پر چلا گیا۔موڈل ٹاؤن چلے جانے کے دوسرے تیسرے روز شام کو خاکسار کو تیز تپ ہو گیا۔گو حرارت تیز تھی لیکن طبیعت میں کوئی زیادہ بے چینی نہیں تھی اور کچھ اطمینان سا تھا کہ یہ حالت عارضی ہے۔لیکن والدہ صاحبہ سخت بے قرار ہو گئیں اور بہت کرب کی حالت میں دعا کرتی رہیں۔چند گھنٹوں میں آپ کی حالت جاتی رہی اور والدہ صاحبہ کو کچھ اطمینان ہوا۔تو انہوں نے فرمایا کہ میری زیادہ تشویش کی وجہ تھی کہ جو خواب میں نے تمہیں جالندھر سُنایا تھا۔اس کے دو حصے تھے۔ایک حصہ تو میں نے تمہیں سُنا دیا تھا۔دوسرا حصہ نہیں سنایا تھا۔وہ یہ تھا کہ پھر سو جانے پر خواب دیکھا کہ ہم گھر کی عورتیں ساتھ کے مکان میں چھت پر سے گئی ہیں اور اُس گھر کی عورتوں سے بات چیت کرتی رہی ہیں۔وہاں سے واپس بھی چھت پر سے ہی آنے لگی ہیں۔جب زمینہ سے میں نے قدم چھت پر رکھا تو دیکھا کہ چھت پر صرف چند بوسیدہ لکڑیاں رہ گئی ہیں اور باقی چھت غائب ہو چکی ہے۔میں نے اپنی ہمراہی عورتوں کو روک دیا کہ اس چھت پر قدم نہ رکھنا یہ تو بالکل گر چکی ہے اور کہا کہ جب ہم نیچے کمرے میں بیٹھے تھے تو یہ چھت کیسی خوبصورت اور آراستہ نظر آ رہی تھی اور اب کیسی ویران ہو گئی ہے۔پھر میں بیدار