میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 40 of 102

میری والدہ — Page 40

۴۰ کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔رستہ میں چند دن کے لئے کوہ مری کے مقام پر ہم نے قیام کیا۔اس مختصر سے قیام کے عرصہ میں والد صاحب کی طبیعت بہت علیل ہوگئی اور حالت تشویشناک ہو گئی۔لیکن اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں صحت عطا فرمائی۔گوان کی علالت کی وجہ سے اکثر حصہ اگست اور تمبر کا ہمیں کوہ مری میں ہی گزارنا پڑا اور آخر تمبر میں صرف چند دن کے لئے ہم کشمیر جاسکے۔لیکن اللہ تعالی نے انکی یہ خواہش بھی پوری کر دی۔والد صاحب کی بیماری آخر جولائی یا شروع اگست ۱۹۲۶ء میں والد صاحب جماعت کے ایک مقدمہ میں شہادت دینے کے لئے قادیان سے سیالکوٹ تشریف لے گئے۔خاکسار بھی اس مقدمہ کے تعلق میں سیالکوٹ گیا ہو اتھا۔وہاں والد صاحب نے ذکر کیا کہ مجھے کھانسی کی شکایت ہے۔لیکن کوئی خاص تکلیف بیان نہ کی۔مقدمہ کی کاروائی سے فارغ ہو کر والد صاحب ڈسکہ تشریف لے گئے اور خاکسار واپس لاہور چلا گیا۔۱۲ اگست کو خاکسار کو اطلاع ملی کہ والد صاحب کو زیادہ تکلیف ہے۔خاکسار فورا ڈسکہ گیا اور والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو اپنے ساتھ لاہور لے گیا۔لاہور پہنچتے ہی اُن کا معائنہ کرانے پر معلوم ہوا کہ انہیں پلوریسی کی تکلیف ہے اور پھیپھڑے کے نیچے کی جھلی میں پانی جمع ہو رہا ہے۔چنانچہ دوسرے دن یہ پانی نکالا گیا۔جس سے کھانسی میں بہت حد تک افاقہ ہو گیا اور بظاہر اُن کی حالت رو بصحت ہوگئی۔لیکن وہ خود چونکہ با قاعدہ طب پڑھے ہوئے تھے۔بیماری کے آثار سے اس کی نوعیت کو پہچانتے تھے۔چنانچہ لاہور پہنچنے کے دو تین دن بعد مجھے فرمایا کہ زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور بظا ہر حالت رو بصحت ہے خدا چاہے تو شفا عطا فرمادے۔لیکن بیماری کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اور اپنی عمر کا لحاظ رکھتے ہوئے