میری والدہ — Page 24
اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ کون ملے ہیں تو کہیں احمد ملے میں"۔اس پر والدہ صاحبہ بیدار ہو میں ہمارے ماموں صاحب بھی اُس دن سیالکوٹ ہی میں تھے۔والدہ صاحبہ نے اس رؤیا کا ذکر والد صاحب اور ماموں صاحب سے کیا۔ماموں صاحب نے فرمایا۔یہ تو میرزا صاحب تھے۔والدہ صاحبہ نے کہا۔انہوں نے اپنا نام میرزا صاحب تو نہیں بتایا احمد بتایا ہے۔ماموں صاحب نے فرمایا۔میرزا صاحب کا نام غلام احمد ہے اور والدہ صاحبہ سے کہا۔آپ دعا کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ آپ پر حق کھول دیگا۔چند دن کے اندر ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیالکوٹ تشریف آوری کے متعلق اطلاع مل گئی۔والدہ صاحبہ نے پھر رویا میں دیکھا کہ بعض سڑکوں پر سے گزر کر وہ ایک مسقف گلی کے نیچے سے ہوتی ہوئی ایک مکان پر پہنچی ہیں اور اس کی پہلی منزل پر پھر اُنہی بزرگ کو دیکھا اور انہوں نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا کہ اتنی بار دیکھنے کے بعد بھی آپ کو یقین نہیں آیا ؟ تو والدہ صاحبہ نے عرض کی۔الحمد للہ میں ایمان لے آتی ہوں۔حضرت مسیح موعود کی سیا لکوٹ میں تشریف آوری حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیالکوٹ تشریف آوری اُس شہر کے لئے تا ابد باعث فخر و امتیاز رہے گی۔حضور کا دور ود عین مغرب کے بعد ہوا۔سٹیشن پر خلقت کا اس قدر ہجوم تھا کہ پلیٹ فارم پر اس ہجوم کو کسی انتظام کے ماتحت لانا مشکل ہو جاتا۔اس لئے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ جس گاڑی میں حضور اور حضور کے اہل بیت اور رفقاء سفر کر رہے تھے۔اسے کاٹ کر مال گودام کے پلیٹ فارم پر پہنچادیا گیا۔نال گودام کا وسیع احاطہ کھچا کھیچ خلقت سے بھر اہو اتھا اور اس کے باہر سڑک پر بھی خلقت جمع تھی سٹیشن پر اور اُن بازاروں میں جہاں سے حضور کی سواری گزرتی تھی۔پولیس کا