میری والدہ — Page 7
صاحب اُن سے بہت شفقت اور ہمدردی سے پیش آتے تھے۔لیکن اُن سے کسی قسم کی تکلیف کا بیان کرنا والدہ صاحب کو طبعا گوارا نہ تھا۔والد صاحب کے بعض حالات میرے والد صاحب کی طبیعت بہت نازک اور حساس بھی اور اپنے والد صاحب سے انہیں بہت حجاب تھا۔فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اپنے والد صاحب کے ساتھ نہ بھی بے تکلفی سے کلام کیا تھا اور نہ بھی سیر ہوکر ان کے چہرہ کو دیکھا تھا۔ایک دفعہ کسی تقریب پر میرے دادا صاحب نے انہیں لاہور سے بلا بھیجا۔والد صاحب نے جواب میں لکھا کہ اس وقت آنے سے میری پڑھائی میں ہرج ہوگا اب آئندہ تعطیلات میں ہی آنا ہو سکے گا۔جب تعطیلات کے موقعہ پر یہ گھر آئے تو اُن کے والد صاحب نے ان کی والدہ صاحبہ کو مخاطب کر کے فرمایا ” اب کس نے بلایا تھا ؟“ والد صاحب نے بھی یہ فقرہ سُن لیا۔جونہی انہیں موقعہ ملا۔انہوں نے اپنا سامان باندھ لیا اور واپس لاہور روانہ ہو پڑے۔پاس خرچ بھی کافی نہیں تھا۔ڈسکہ سے گوجرانوالہ ۱۵ میل کا فاصلہ سامان سر پر اٹھائے ہوئے پیدل گئے۔گوجرانوالہ سے شاہدہ تک ریل میں سفر کیا اور شاہدرہ سے پھر سامان سر پر اٹھا کر حضوری باغ میں پہنچے۔جہاں ان دنوں اور فینل کا لج کا ہوٹل ہوا کرتا تھا اور تعطیلات کا زمانہ بھی لاہور ہی میں گزار دیا۔باپ بیٹے نے تو انی اپنی طبیعت کا تقاضا پورا کر لیا مگر کے دل پر جو گزری ہوگی۔اُس کا اندازہ کوئی دردمندوں ہی کر سکتا ہے۔میرے والد صاحب ذکر فرمایا کرتے تھے کہ اب تو تعلیم کے لئے اس قدر سہولتیں ہو گئی ہیں اور پھر بھی تم لوگ کئی قسم کے بہانے کرتے رہتے ہو۔ہمارے وقت میں تو سخت مشکلات تھیں۔اول تو اخراجات کی سخت تنگی تھی۔فرمایا کرتے تھے کہ میں نے چھ سات سال کا عرصہ لاہور میں بطور طالب علم کے گزارا او مینٹل کالج