میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 45 of 102

میری والدہ — Page 45

والد صاحب کی وفات چونکہ ہم سب کو تو والدہ صاحبہ کے خواب کا علم تھا۔ہم جانتے تھے کہ اب یہ آخری گھڑیاں ہیں اور دل میں بہت حسرت تھی کہ کوئی بات کر لیں۔اس لئے میں کوئی نہ کوئی بات کرتا جاتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے اُن کے کان میں کہا۔"مجھے آپ سے اس قدر محبت ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ کی تکلیف میں لے لوں۔اس پر والد صاحب نے اپنا بازو میری گردن کے گرد ڈال کر میرے چہرہ کو اپنے چہرہ کے قریب کر لیا اور میرے کان میں کہا۔ایسی خواہش اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ہر ایک اپنی اپنی باری پر۔تھوڑے وقفہ کے بعد میں نے کہا۔آپ کو یاد ہے۔یہ کس موقعہ کا شعر ہے كنت السواد لناظري - فعمی علیک الناظر من شاء بعدک فلیمت - فعلیک کنت احاذر فرمایا ہاں یاد ہے حستان ابن ثابت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر کہا تھا۔جب کھانے کا وقت ہوا۔تو باصرار تمام مہمانوں سے کہا جاؤ اور کھانا کھاؤ۔جب بعض نے تامل کیا۔تو والد صاحب نے پھر اصرار کیا اور کہا ملازم انتظار کرتے رہیں گے انہیں بھی فارغ کرنا چاہئے۔ابھی مہمان کھانا کھا رہے تھے۔تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے والد پسند کریں۔تو اُن کا پلنگ مردانہ صحن میں لے چلیں وہ زیادہ فراخ اور ہوا دار ہے اور یہ اکثر وہیں سویا کرتے تھے۔میں نے والد صاحب سے دریافت کیا۔تو اُنہوں نے فرمایا۔”ہاں لے چلو۔میں نے کہا۔” کیا وہ صحن آپ کو زیادہ پسند ہے؟ تو والدہ صاحبہ نے کہا وہ تو فوت بھی ہو چکے ہیں اور یوں وہ اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔چنانچہ دیکھا تو فوت ہو چکے تھے۔