میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 34 of 102

میری والدہ — Page 34

۳۴ بھائیوں اور بہن کی طرف سے بھی بیعت کا خط لکھوا دیا ہے۔تمہیں نصیحت کرتی ہوں کہ اگر ابھی تم نے بیعت کا خط نہیں لکھا تو اب فورا لکھ دو۔تاخیر ہرگز نہ کرنا۔خلافت ثانیہ کی بیعت اور اس کے متعلق رویا اس موقعہ پر بھی والدہ صاحبہ نے اپنے رویا اور خوابوں کی بناء پر فوراً بیعت کر لی۔والد صاحب نے چند دن کے توقف کے بعد بیعت کی۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ نے کئی دفعہ فرمایا ہے کہ بعض دفعہ والدہ صاحبہ کے رویا کا اور حضور کے رڈیا کا توارد ہو جاتا تھا۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے والدہ صاحبہ کو بھی بعض باتیں اُسی رنگ میں دکھا دیتا تھا۔جس رنگ میں وہ حضور کو دکھائی جاتی تھیں۔چنانچہ اس موقعہ پر بھی والدہ صاحبہ کے ایک رؤیا کے متعلق حضور کا یہی خیال تھا۔والدہ صاحبہ نے دیکھا کہ طغیانی آ گئی ہے اور گلی کوچوں میں پانی بہت سُرعت سے چڑھ رہا ہے۔لوگ اپنے مکانوں کی چھتوں پر چڑھ گئے نہیں۔اتنے میں آواز میں آنی شروع ہوئیں کہ ایک خرگوش پانی میں تیرتا پھرتا ہے ، جو باتیں کرتا ہے۔پھر وہ خرگوش ہمارے مکان کے متحن میں آ گیا۔ایک لکڑی کے تختہ پر بیٹھا ہو اتھا اور وہ تختہ پانی میں تیرتا پھرتا تھا۔والدہ صاحبہ نے اوپر کی منزل سے اُسے مخاطب کر کے کہا: خواجہ کیا تم باتیں کرتے ہو ؟ خرگوش نے جواب دیا ”ہاں والدہ صاحبہ نے کہا۔خواجہ دیکھو نہیں ڈوب نہ جانا۔خرگوش نے جواب دیا۔”اگر میں ڈوب گیا تو کئی اور لوگوں کو ساتھ لے کر غرق ہونگا“۔انہی ایام میں والدہ صاحبہ نے ایک اور رویا دیکھی کہ ایک وسیع میدان میں بہت سے لوگ جمع ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی واقعہ کی انتظار میں ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد زمین سے ایک روشنی نمودار ہوئی جو بجلی کے ایک بہت روشن لیمپ کی صورت میں تھی اور آہستہ آہستہ وہ زمین سے بلند ہونی شروع ہوئی۔اس طور پر کہ گویا