میری والدہ — Page 26
۲۶ تحقیقات میں لگا ہو ا ہوں۔آخری فیصلہ اکٹھے سوچ کر کرینگے۔والدہ صاحبہ نے کہا کہ اگر تو یہ وہی بزرگ ہیں۔جنہیں میں نے خواب میں دیکھا ہے۔تو پھر تو میں بیعت میں تا خیر نہیں کر سکتی۔کیونکہ میں خواب میں اقرار کر چکی ہوں اور تاخیر سے میرا عہد ٹوٹتا ہے اور اگر یہ وہ نہیں ہیں۔تو پھر آپ تحقیقات کرتے رہیں میں بھی غور کر لوں گی۔والد صاحب نے پھر سمجھانے کی کوشش کی کہ کوئی قطعی فیصلہ بغیر مزید مشورہ کے نہ کریں اور یہ نصیحت کر کے کچہری چلے گئے۔والدہ صاحبہ دو پہر کے کھانے کے بعد بصد شوق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فرودگاہ کی طرف روانہ ہوئیں۔رستہ سے مکان کی ہیئت سے والدہ صاحبہ نے پہچان لیا کہ یہ وہی مکان ہے۔جو انہوں نے خواب میں دیکھا تھا۔جب والدہ صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں شرف باریابی کے لئے حضرت میر حامد شاہ صاحب مرحوم کے مکان پر حاضر ہوئیں۔تو خاکسار بھی ان کے ہمراہ تھا۔حضرت ام المومنین کی خدمت میں حاضر ہو کر انہوں نے عرض کی کہ حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہوئی ہوں۔حضور اس وقت مکان کی چھت پر تشریف رکھتے تھے۔وہ غالبا لیکچر سیالکوٹ کی تیاری میں مصروف تھے۔حضور نے کہلا بھیجا کہ تھوڑی دیر میں تشریف لائیں گے۔تھوڑے ہی وقفہ کے بعد حضور تشریف لے آئے اور ایک پلنگ پر جو وسط صحن میں بچھا ہوا تھا، تشریف فرما ہوئے۔والدہ صاحبہ چند دیگر مستورات کے ساتھ ایک چوبی تخت پوش پر جو اس پلنگ کے قریب دو گز کے فاصلہ پر بچھا ہوا تھا، میٹھی تھیں۔حضور پلنگ پر تشریف فرما ہو گئے۔تو والدہ صاحبہ نے عرض کیا۔”حضور میں بیعت کرنا چاہتی ہوں۔حضور نے فرمایا۔بہت اچھا اور والدہ صاحبہ نے بیعت کر لی۔یہ وقت ظہر کا تھا۔مکان پر واپس پہنچ کر والدہ صاحبہ نے مجھے کچھ اچار دیا اور کہا کہ یہ جا کر حضرت