میری والدہ — Page 8
A سے بی۔او ایل کا امتحان پاس کیا۔ٹر منینگ کالج سے نارمل سکول کا امتحان پاس کیا اور پھر مختاری اور وکالت کے امتحان پاس کئے۔اس تمام عرصہ میں گھر سے ایک پیسہ نہیں منگوایا۔جو وظائف ملتے رہے۔انہیں پر گزارا کیا۔گھر سے صرف آٹا لے جایا کرتے تھے اور وہ صرف اس مقدار کا کہ اس تمام عرصہ میں لاہور میں بھی سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا۔وظیفہ بھی پہلے چار روپے یا ہوار اور پھر چھ اور آٹھ روپے ماہوار تھا۔پھر قانون کے امتحانوں کے لئے یہ دقت تھی کہ اکثر کتب انگریزی میں تھیں اور انگریزی نہ جاننے والے طلباء کو بڑی دقت کا سامنا ہوتا تھا۔کیونکہ کئی کتب کے تراجم میسر نہ تھے۔چنانچہ ایک دفعہ والد صاحب لالہ لاجپت رائے صاحب کے ساتھ حصار اس غرض کے لئے گئے تھے کہ وہاں کے ایک وکیل صاحب کی زیر نگرانی ایسے مضمون کی تیاری کریں۔جس کے کورس کی کتب کا اردو ترجمہ میسر نہیں تھا۔ان دنوں ابھی حصار تک ریل نہیں بنی تھی اور بہت سا حصہ سفر کا پہلی یا یکہ کے ذریعہ کرنا پڑتا تھا۔باوجود ایسی مشکلات کے والد صاحب مختاری اور وکالت دونوں امتحانوں میں اول رہے اور اس صلہ میں چاندی اور سونے کے تمغے انعام پائے۔وکالت کا امتحان پاس کرنے سے قبل والد صاحب نے بطور مختار ڈسکہ ہی میں پریکٹس شروع کر دی تھی۔لیکن وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے سیالکوٹ میں پریکٹس شروع کی اوروہ میں رہائش اختیار کی۔بچوں کی وفات پر والدہ کا صبر میری پیدائش سے قبل میرے والدین کے پانچ بچے فوت ہو چکے تھے۔ان میں سے پہلے تین کی پیدائش اور وفات تو اس زمانہ میں ہوئی جب میرے والد صاحب ابھی طالب علم ہی تھے اور آخری دو کی اُن کی مختاری اور وکالت کے زمانہ میں۔ان میں سے ہر ایک بچہ کی وفات میری والد صاحب کے لئے ایک امتحان بن