میری پونجی

by Other Authors

Page 40 of 340

میری پونجی — Page 40

ایک ایسی مجلس میں لے گیا جہاں حضرت اقدس کے ایک غلام مکرم مولوی مبارک علی صاحب کے قریب بیٹھنے کا موقع مل گیا اور بعد میں عاجز کو یہ توفیق ملی کہ وہ انہیں دارالامان پہنچانے کا موجب بن گیا۔الحمد للہ۔ڈاکٹر سلیمان صاحب کا احمدیت قبول کرنا دعوت الی اللہ کے فریضہ کی ادائیگی کے ذکر میں لنڈن مشن کے ذریعہ جماعت میں شامل ہونے کی سعادت پانے والوں میں ڈاکٹر سلیمان صاحب کا ذکر ایمان افروز ہے۔ڈاکٹر صاحب کیپ ٹاؤن ، جنوبی افریقہ کے ایک مسلمان تاجر کے بیٹے تھے۔مشہور لیڈ رگاندھی جی کا ان سے ایک گونہ یگانگت کے درجہ کا تعلق تھا۔گاندھی نے اپنے اس دوست کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو کمسنی میں ہی لنڈن بھیج دیں تا کہ وہ کسی انگریز گھر میں انگریز بچے کی طرح پرورش پائے۔سوائے نسلاً اور شکلاً ان میں اور کسی انگریز میں فرق نہ تھا۔تعلیم میں میڈیکل لائن اختیار کی اور ڈاکٹر کہلائے۔ڈاکٹر صاحب کو اس بات کا شعور حاصل تھا کہ وہ ایک مسلمان گھر کے چشم و چراغ ہیں اس فطری طلب کی تسکین کیلئے وہ کسی نہ کسی مسلمان سے ملنے کا تر دو کر لیا کرتے۔مکرم سردار صاحب لکھتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ممکن ہے کہ ان کا وہ کنگ سے بھی رابطہ ہوا ہولیکن جب مجھ سے تعلق پیدا ہوا تو انہوں نے حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور بتایا کہ ان کی نیک دلی کا اُن پر بہت گہرا اثر ہوا۔یہاں مشن ہاوس میں ہفتہ وار اجلاس کا طریق رائج تھا۔ایسے میں سلیمان صاحب بھی ایک روز اجلاس میں آن شامل ہوئے۔میرا اپنا علم بھی اس وقت محدود تھا اور انگریزی زبان پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے بلا تکلف رواں رواں نہ بول سکتا تھا مگر خدائی تصرف تھا اور روح کو روحانیت سے ایک فطری میلان تھا کہ وہ میری سادہ وضع اور سادہ بیانی سے ایسے متاثر ہوئے کہ تقریر کے بعد میرے پاس آئے اور اپنے نام سے متعارف کروایا۔ان کے انداز سے ان کی نیاز مندی اور (40)