میری پونجی

by Other Authors

Page 223 of 340

میری پونجی — Page 223

دوسری شادی کر لی ہو گی۔مگر ہماری امی جان کی زبان پر کبھی شکوہ نہ آیا، یا دل شکنی نہیں ہوئی۔امی ابا جان کا آپس میں پیار اور اعتماد کا جو رشتہ تھا وہ ان کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیتا تھا۔وہی پیار اور اعتماد ہماری امی نے ہمیں سکھایا۔ہمیشہ ہمارے او پر اعتماد کیا اور بھروسہ کیا۔ہماری پرورش میں ہماری امی جان نے انتھک محنت کی۔بغیر کہے دل کی بات جان جاتیں۔دنیا بھر کی فرمائشیں پوری کرنے کی کوشش کرتیں۔کبھی بیمار ہوتیں تو بھی اپنی ذمہ داریوں کو نہ بھولتیں۔اس زمانہ میں بھی باپ کی غیر موجودگی میں بچوں کو پالنا کوئی آسان بات نہیں تھی۔بچوں کی تربیت کا خیال ان کی پڑھائی اور باہر کی دنیا سے محفوظ رکھنا وغیرہ۔بے جا روک ٹوک نہیں کرتی تھیں مگر دین کے معاملہ میں کبھی نرمی نہیں کرتی تھیں۔نمازوں کی پابندی، ناصرات یا لجنہ کے پروگراموں میں کبھی ناغہ نہ ہونے دیتیں بلکہ ناصرات کے اجلاس تو ہوتے ہی ہمارے گھر تھے۔جہاں امی جان نے زندگی کے ہر مشکل سے مشکل امتحان میں کمزوری نہیں دکھائی اور بے حد بردباری اور تحمل سے ہر امتحان میں پاس ہوئیں۔ایسے ہی انہوں نے اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوارتے ہوئے انکی زندگیوں کے ساتھی ڈھونڈنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ابا جان پاکستان میں رہتے نہیں تھے سو بچوں کی شادیوں کی ذمہ داریاں بھی امی جان کے ہی حصہ میں آئیں۔کچھ شادیوں میں ابا جان شامل ضرور ہوئے۔الحمد للہ۔سب بچے اپنے اپنے گھروں میں خوشگوار زندگیاں گزار رہے ہیں۔ہاں یہ بھی سچ ہے کہ ان نیک کاموں میں میری خالہ صادقہ نے ہر مشکل ، خوشی غمی میں اپنی بہن کا بھر پور ساتھ دیا۔اللہ ان کو جزائے خیر دے۔آمین۔ابا جان 1969ء میں لندن آگئے اور امی بھی 1974ء میں ابا جان کے پاس لندن آگئیں۔ہمارے گھر کا سب سے چھوٹا بچہ اب ماشا اللہ جوان ہو گیا تھا۔وہ بھی امی ابا جان کے پاس لندن میں ہی تھا اُس کی شادی کی خوشی ہم سب نے مل کر دیکھی۔(223)