میری پونجی — Page 20
کی برکت اور کرنیں تقسیم ہوتی رہیں۔جزاھم اللہ احسن الجزا۔بھائی جان مکرم عبد الباسط شاہد صاحب میرے ماموں زاد بھائی ہیں۔ہمیشہ دھیمے لہجے اور قت سے میری دلجوئی فرماتے ہیں۔مجھے خوشی ہے کو بھی اُن کا پیار اور شفقت ملی ہے۔جزاھم اللہ احسن الجزا۔عزیزم خالد میرا بھائی ہے اگر اُس نے ابا جان کے متعلق نوٹ نہ لکھے ہوتے تو شائد میں یہ پونچھی تقسیم ہی نہ کر پاتی۔جزاھم اللہ احسن الجزا۔میں اپنے سب بچوں کا شکر یہ ادا کرونگی، جنہوں نے مجھے کمپیوٹر پرلکھنا سکھانے میں پل پل میری رہنمائی کی ورنہ میں تو آج بھی قلم سے اپنا نام لکھنا چاہوں تو یقیناً غلط لکھ دوں۔مجھ پر لازم ہے کہ میں اپنی بہو عروج اور بیٹے عکاشہ کا بھی شکر یہ ادا کروں۔باوجود اس کے کہ دونوں ہی اردو زبان سے بے خبر ہیں، لیکن جب بھی مجھے محسوس ہوا کہ میں کسی کو اپنا لکھا ہوا سناؤں اور رائے لوں کہ میں نے کیا لکھا ہے تو دونوں نے ہی غور سے سنا اور مشورہ بھی دیا۔جزاھم اللہ۔اب میں اپنے دو ننھے بچوں کا شکریہ ادا کروں۔دونوں ہی سٹوڈنٹ ہیں۔میری نواسی شہزانہ کنول ( لبنی مقصود کی بیٹی) جس نے مجھے کمپیوٹر پر سکین کرنا پھر اُس کو میل کرنا اور اس طرح کی بے شمار با تیں جن کا مجھے کوئی علم نہیں تھا وہ سب مجھے سکھایا۔اللہ تعالیٰ سے اُس کی کامیابیوں کے لیے ہمیشہ دعا کرتی ہوں۔میری بہن سعید شمیم کا پوتا عثمان وحید ( ابن شیخ عبدالوحید ) جو آرٹ کا سٹوڈنٹ ہے اُس نے کا ٹائٹل پیج بنایا ہے۔اور اب یہ بھی بتادوں کہ کتاب لکھنے کا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا مگر مجھے یہ ہمت اپنی بہن امتہ الباری ناصر کو دیکھ کر آئی جس نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کی تحریک پر اپنے بزرگوں کی یادوں کو زندہ رکھا اور زندہ درخت، کتاب لکھی۔(20)