میری پونجی — Page 94
مریض آگیا۔اس کے لواحقین اسے بے یار و مددگار چھوڑ گئے۔مریض چلنے پھرنے سے قاصر تھا۔مرض انتہا کو پہنچ چکا تھا، کوئی بھی شخص ایسی حالت میں مریض کے پاس کھانا یا پانی لیجانے سے گھبراتا تھا۔اماں جی کو جب پتہ چلا کہ ان کے پڑوس میں ایک بے بس انسان انتہائی مہلک مرض میں مبتلا بے یارو مددگار پڑا ہے تو فورا تمام خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس اجنبی مریض کی تیمارداری کیلئے مستعد ہو گئیں۔اس کی باقاعدہ خبر گیری کی کھانا پہنچایا، پانی کا انتظام کیا اور دعائیں بھی کیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا رحم نازل فرمائے ، بعد میں مولا کی تقدیر سے وہ مریض چل بسا۔ہمارے گھر کے سامنے آنے جانے والے دیہاتیوں کا اکثر گز رہتا تھا۔چونکہ بہت بڑا آموں کا باغ تھا، گرمی کی وجہ سے را بگیر اس باغ میں ستانے کیلئے رکھتے تھے یہاں تک کہ دن ڈھل جاتا۔کیونکہ پانی کا کنواں اس باغ کے ورلے کنارے تھا اس لیے باغ میں رکنے والے راہگیروں کیلئے تازہ پانی حاصل کرنے کیلئے ہمارا گھر ہی سامنے تھا۔اماں جی ان سب را بگیروں کیلئے اپنے محن کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھتیں اور پانی کانل دن بھر چلتا رہتا۔اس کے علاوہ ہم بچوں کی ڈیوٹی لگا تیں کہ باغ کے بڑے پیڑ کے نیچے ہر وقت بڑے بڑے مٹکے پانی کے بھرے رکھیں۔تقسیم ہند کے موقعہ پر قادیان کے گردو نواح کے تمام دیہات مسلمانوں سے خالی ہو رہے تھے۔میں اپنے گھر کے سامنے باغ کے سب سے بوڑھے پیڑ کے نیچے کھڑا تھا کہ دیکھا کہ ہر چو وال کی سڑک پر، جو ہمارے گھر کے سامنے سے ریتی چھلہ کو جاتی ہے، حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال کی کوٹھی کی جانب سے ایک بہت بڑا قافلہ نمودار ہوا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس قافلہ نے ”باو یاں دے باغ میں پڑاؤ ڈال دیا۔یہ سب بھانبڑی گاؤں کے پناہ گزین تھے۔مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سب شامل تھے۔ساز وسامان سے لدے پھندے گڈے، گائے بھینسیں ، ڈنگر وغیرہ۔اس سارے ماحول نے اس بوڑھے باغ کو دیکھتے ہی دیکھتے آباد کر دیا۔دن ڈھل گیا اور رات ہو گئی۔باغ میں الاؤ جلنے لگے، جس باغ میں رات کا سناٹا رہا کرتا تھا، آج کی رات وہ روشنیوں کا شہر (94)