میری پونجی — Page 76
کراچی 9 مئی 1978ء بسم اللہ الرحمن الراحیم مجی عزیزی میاں عباس احمد سلمہ اللہ تعالیٰ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ پیارے ! جس قضا کے کسی وقت آور دہونے کا دلوں کو دھڑکا لگا چلا آ رہا تھا وہ قضائے الہی تھی۔نہ ٹلنے والی تھی نہ ٹلی اور وارد ہوگئی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔عزیزم ! جس دل توڑ صدمہ اور الم کے آور د ہونے پر آپ سے مخاطب ہوں ، پیارے! اس صدمہ اس غم و الم کا اثر آپ کی جاں حزیں تک ہی نہیں ، اک جہان آپ کا شریک حال ہے۔فرشتے شریک حال ہیں۔عزیزم میں کیا بتلاؤں کہ شراکت کیلئے مدارج ہوتے ہیں۔اسی نسبت سے رنج و راحت میں شراکت ہوتی ہے۔ایک شریک حال ایسا بھی ہوتا ہے جو خون کے رشتہ کے دائرہ سے باہر کا ہوتا ہے لیکن رنج و غم رسیدہ جانتے ہیں کہ وہ بھی صدمہ اور غم والم میں یکساں شریک حال ہے۔پیارے خود ہی جانتے ہو کہ آپ کے گھرانے سے حضرت مسیح موعود سے نسبت غلامی اور روحانی کی بناء پر شراکت رنج و راحت ہے لیکن ان لاکھوں میں بعض نفوس کی خوش نصیبی میں یہ سعادت بھی آئی کہ آپ کے گھرانے سے ذاتی تعلق بھی حاصل رہا اور آپ خود جانتے ہیں کہ آپ کے ابا جان سے نہ صرف مجھے ہی اپنی ذات میں کسی آن بھی مدہم نہ ہونے والی الفت اور محبت تھی بلکہ الحمد للہ ! انہیں بھی مجھ سے یکساں درجہ کی انس و محبت ، رغبت تھی۔اس درجہ کہ آپ کے علم اور احساس میں بھی جگہ پا چکی ہوئی تھی۔عزیزم اس بارے میں ذکر کروں کہ آپکے ابا جان کی رحلت ہو جانے پر جب میں انکی قبر پر مٹی ڈال رہا تھا تو آپ نے مجھے کہا۔ابا جان کو آپ سے محبت تھی اور آپ کی امی جان جن کی اس وقت رحلت پر صدمہ رسیدہ ہونے پر آپ سے مخاطب ہوں میرے علم میں یہ بات آتی رہی کہ کسی کی زبان سے میراذ کر بھی کسی وقت انکے سامنے ہو جا تا تو آپ فرماتیں : (76)