میری پونجی — Page 61
تقریب کے شرکاء کے نام اکٹھے کئے تھے ، وہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔جس سال حضرت ام المومنین کی وفات ہوئی خاکسار ( بشیر الدین ) ان دنوں لاہور میں نوکری کے لیے سرگردان تھا کہ مجھے والد محترم کا ایک دستی رقعہ ملاجس میں یہ پیغام تھا کہ حضرت اماں جان کی آخری گھڑی آن پہنچی ہے، اس لیے جیسے تیسے بن پڑے کسی سے کرایہ مانگ کر فور ار بوہ پہنچو۔مکررتا کید ہے کہ اس موقع کو ضائع نہ کرنا الحمد للہ اس تاکیدی ارشاد پر مجھے عمل کی توفیق بھی مل گئی۔انداز تحریر حضرت سردار صاحب کے قلم میں بہت روانی تھی ، زور تھا، تصویر کشی تھی۔انہوں نے زندگی بھر اپنے قلم سے بھر پور کام لیا۔علمی مضامین بھی لکھے، قدم قدم پر جدائی کا داغ دینے والے دوست احباب اور بزرگوں کی یادوں اور انکی شخصیت کے ہو بہوخا کے قرطاس پر کھینچے اور جہاں تک ممکن ہوا انہیں اخبار الفضل کی زینت بھی بنایا۔ان کے اولین استاد اور احمدیت سے روشناس کروانے والے بزرگ حضرت حافظ محمد فیض الدین صاحب سیالکوٹی صحابی حضرت مسیح موعود کا خاندانی تعارف اور سیرت بھلا اُن سے زیادہ اور کون جان سکتا ہے۔ڈاکٹر عبد الرحمن کامٹی صاحب نے حضرت سردار صاحب سے خواہش کی کہ وہ حضرت حافظ صاحب کے حالات زندگی لکھ کر دیں۔انہوں نے لکھ کر اس عاجز (مرتب) کو بھجوائے۔اس مسودہ کو ڈاکٹر کامٹی صاحب نے حضرت مولانا عبدالمالک خان صاحب کے سپر د کر دیا جو والد بزرگوار سردار صاحب کے شاگردوں میں سے تھے تا کہ اسے مرتب کر کے چھپوا دیں۔چنانچہ انہوں نے اس سارے مواد کو مناسب رنگ میں ڈھال کر حیات فیض کے نام سے شائع کروا دیا۔حضرت حافظ صاحب کے ساتھ حضرت سردار مصباح الدین صاحب کا جو دیر یہ تعلق اور محبت تھی اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے وہ سردار صاحب پر بہت اعتما در کھتے تھے۔جب حافظ صاحب کو اپنی لڑکیوں کی شادی کرنا مقصود تھی تو انہوں نے قادیان میں دومناسب رشتے تلاش کرنے کو لکھا (61)