میری پونجی — Page 41
ارادے ایسے جھلک رہے تھے جیسے ایک شاگرد اپنے ایک استاد محترم سے ملنے پر اظہار کرتا ہے یا جیسے ایک مرید اپنے پیر سے عقیدت اور ارادت سے ملتا ہے۔مکرم ڈاکٹر صاحب مجھے اسی انداز سے ملے اور خواہش ظاہر کی کہ میں انہیں اپنی شاگردی میں لے لوں اور دین اسلام کی عام تعلیم اور جماعت احمدیہ کی خصوصیات سے آگاہی کی تعلیم دوں۔چنانچہ وفور شوق میں یہ ان کا معمول ہو گیا کہ وہ کسی دن میرے پاس مشن ہاؤس ٹھہرتے اور اپنی واقفیت کی تسکین کرتے رہتے۔بس وقفہ وقفہ پر انکا آنا ایک عادت بن گیا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ایسے انداز سے دل میں اتر گئی کہ نہ صرف یہ کہ خود احمدیت میں داخل ہوئے بلکہ ان کی ایک بہن اور بہنوئی بھی جماعت میں داخل ہو گئے اور تینوں نے اکٹھے حج بھی کیا۔اسی سال چودھری ابوالہاشم صاحب بنگالی بھی حج پر گئے ہوئے تھے انہوں نے ان سے ملاقات کا حال بتایا کہ بہن اور بہنوئی کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کا چھوٹا بھائی عمر سلیمان بھی جماعت میں شامل ہو گیا ہے۔حضرت سردار صاحب لکھتے ہیں: و عمر سليمان لندن تعلیم کے لیے گیا تو اس نے وہاں پہنچتے ہی مجھے ایک خط لکھا کہ میں یہ خط اس جذبہ سے سرشار ہو کر لکھ رہا ہوں کہ آپ کے ذریعہ ہمارے گھر میں احمدیت کا نور داخل ہوا۔عمر سلیمان نے بھی ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی اور ایک ڈچ عورت سے شادی کر لی اور مشن ہاؤس کے قریب ہی رہائش اختیار کر لی۔ان کی اہلیہ اس انداز کی دیندار تھیں کہ گویا وہ کسی احمدی گھرانے کی صوم وصلوۃ کی پابند بی بی ہوں۔وہ ربوہ بھی آئیں اور دو ماہ تک محترمه فرخنده شاه اہلیہ محترم سید محمود اللہ شاہ صاحب کے ہاں قیام کیا۔ڈاکٹر عمر سلیمان کی وفات ہوئی تو ایک احمدی ڈاکٹر عبد الحمید صاحب کی زوجیت میں آگئیں۔ڈاکٹر سلیمان صاحب نے حج ادا کیا اور پھر قادیان بھی آئے۔قادیان میں میرے علاوہ حضرت مولوی شیر علی صاحب سے نیاز مندی تھی جبکہ وہ لنڈن میں ان سے فیوض حاصل کرتے رہتے تھے۔(41)