میری پونجی

by Other Authors

Page 315 of 340

میری پونجی — Page 315

ہے۔ان کا ایک بیٹا ہے۔بڑا بیٹا عزیزم شمر مہدی اور ان کی بیگم عزیزہ امامہ ہیں۔ان کا ایک بیٹا فضل احمد ہے۔چھوٹا بیٹا عمر مہدی اور ان کی بیگم صفیہ ہیں۔ان کی ابھی شادی ہوئی ہے۔یہ سب بچے اپنی فیملیز کے ہمراہ پاکستان میں مقیم ہیں۔عزیزم محمد اسلم خالد مجھے یاد ہے جب میرے بھائی کی ولادت ہوئی ، ہم بہت خوش تھے۔چار بہنوں کے بعد بھائی اللہ تعالیٰ دے تو کون خوش نہیں ہوتا۔ابا جان کے افریقہ جانے کے بعد میرا یہ حال تھا کہ ہر مغرب کی نماز کے بعد جب لوگ نماز پڑھ کر باہر نکل رہے ہوتے تو میں اپنے بھائی کو گود میں اٹھا کر بھاگ کر مسجد کے دروازے کے باہر کھڑی ہو جاتی ( کیونکہ احمدیہ مسجد ہمارے گھر کے سامنے ہی تھی ) اور ہر نمازی کو کہتی میرے بھائی پر دعا کر کے پھونک ماردیں۔میں حیران ہوتی ہوں مجھے کسی نے بھی ایسا کرنے سے نہیں روکا۔شاید یہ میرا غیر احمدی ماحول میں رہنے کا اثر تھا یا واقعی میرا اپنے بھائی کے ساتھ پیار تھا اور میں اُس کو ہر شر سے بچانے کا یہ ہی راستہ جانتی تھی۔میں یہ تو نہیں کہ سکتی کہ وہ لاڈلا نہیں تھا، بہت لاڈلا تھا لیکن اُس کے ساتھ ساتھ اُمی جان کی یہ بھی بہت کوشش اور خواہش تھی کہ وہ ایک ذمہ دار شخص بنے اس لیے اُس پر بے شمار ذمہ داریاں ڈالی ہوئی تھیں۔کوئی بھی بہن باہر کسی کام کیلئے جائے ، امی جان کی آواز آتی بھائی کو ساتھ لیکر جائیں۔بہنیں بھی سارا دن آواز لگاتیں بھائی بھاگ کر میرا یہ کام کر دو پھر دوسری کی باری غرض۔سب کی فرمائشیں پوری کرنا بھی اُس کی ذمہ داریوں میں سے ایک تھی اور وہ کبھی خوشی سے اور کبھی غصہ سے کام کر دیتا۔جب بڑی بہنوں کیلئے کوئی رشتہ آتا اور لوگ ہو کر چلے جاتے تو امی جان پہلے بھائی کو پوچھتیں کہ یہ لوگ تمہیں کیسے لگے؟ ہمارے لیے اُس کی رائے بہت معنی رکھتی تھی۔ویسے تو پورا سال ہی اُس کو صبح ہی صبح نماز کیلئے اُٹھا تھیں کہ محلہ کے بچوں کے ساتھ ملکر در و دشریف صل على نبينا کیلئے جاؤ اور وہ جاتا لیکن رمضان شریف میں صبح ہی صبح پیا اور پرات بجا کر سحری (315)