میری پونجی — Page 260
میری یونجی جی ہاں اور اس طرح الحمد للہ مجھے دو کتابیں مل چکی تھیں۔اُس شخص نے مجھے ایک اور راہ دکھائی اور کہا دوسرے گاؤں کے سکول ماسٹر کومل لیں ہوسکتا ہے وہ آپ کی کوئی مدد کر دے۔کیونکہ سکول کی چھٹی کے وقت بچے اُس سڑک سے گزرتے ہیں۔ہو سکتا ہے اُن بچوں میں سے کسی کو کوئی کتاب ملی ہو اس لیے آپ اُس سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب کو ضرور مل لیں اور ساتھ اُس نے ایک رقعہ بھی ہیڈ ماسٹر صاحب کے نام مجھے لکھ کر دے دیا۔وہ خاتون جس نے مجھے گرم گرم دودھ پلایا تھا اُس کو کافی تیز بخار تھا۔میں نے اُس سے وعدہ کیا کہ میں لائل پور جا کر تمہیں 693 کی گولیاں لا کر دونگا۔ان دنوں یہ دوائی بخار کو توڑنے کیلئے استعمال ہوتی تھی۔میں نے ہیڈ ماسٹر صاحب کو مل کر پھر ادھر سے ہی گزرنا تھا اس لیے اپنی کتا بیں ادھر ہی چھوڑ دیں اور رقعہ لے کر سکول والے گاؤں چلا گیا۔ہیڈ ماسٹر جن کا نام علی احمد تھا بہت ہی شریف انسان تھے۔انہوں نے فوراہی سکول کے بچوں سے رابطہ کیا اور اس طرح آہستہ آہستہ ساری کتابیں اسی گاؤں سے مل گئیں۔میں نے ہیڈ ماسٹر صاحب سے اجازت چاہی کہ میں لائل پور سے اُس بوڑھی عورت کے لیے دوائی لے آؤں۔جب ماسٹر صاحب کو یہ علم ہوا کہ میں صرف دوائی لینے جارہا ہوں تو انہوں نے دوائی بھی میرے ہاتھ پر رکھ دی اور کہا اب آپ رات کو یہاں آرام کریں صبح کو چلے جائیں۔اتنی دھوڑ دھوپ میں کافی تھک گئے ہونگے۔اس طرح وہاں رات بھر آرام کے بعد ماسٹر صاحب کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے پہلے والے گاؤں پہنچا اور بیمار خاتون کو دوائی دی۔جس پر وہ بہت خوش ہوئی اُس نے مجھے مکئی کی روٹی سرسوں کے ساگ کے ساتھ میری دعوت کی۔وہاں سے میں اُن دونوں ماں بیٹے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کتابیں لیکر اپنی اصل منزل کی طرف چل پڑا۔دل میں مجھے یقین نہیں ہورہا تھا کیسے اللہ تعالیٰ نے کرم کیا یہ ایک معجزہ سے کم نہیں تھا کہ اس طرح سے بکھری ہوئی کتابیں مل جائیں۔یہ صرف اللہ تعالیٰ کے احسان ہیں مجھ پر کہ اُس نے اس ناممکن کو ممکن میں بدل دیا۔میں نے جامعہ احمدیہ کی یہ کتابیں واپس کر کے نفل ادا کئے کہ اُس ذات پاک نے میری لاج رکھی اور ناممکنکو ممکن کر دکھایا۔الحمد للہ۔(260)