میری پونجی

by Other Authors

Page 259 of 340

میری پونجی — Page 259

محبت سے استقبال کیا۔اگلے دن اپنے گھر پر ہماری ناشتہ سے عزت افزائی کی اور اپنی دعاؤں سے رخصت کیا نیز کچھ لٹریچر بھی دیا کہ ساتھ لے جائیں۔کتابوں کا گم جانا اور ملنا میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان کا تعلق ہے۔ہمیشہ پاک پروردگار کا سایہ اور رحمت کی چادر او پر رہتی ہے۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب جامعہ احمدیہ احمد نگر میں تھا۔مکرم حکیم خورشید احمد صاحب احمد یہ لائبریری میں کام کرتے تھے اُنہوں نے مجھے تقریباً بارہ کتابیں جلد بندی کے لیے دیں۔میں اُن دنوں فیصل آباد ( لائلپور) میں رہتا تھا۔کتا بیں تیار ہونے پر خاکسار بس پر سوار ہوا اور کتابیں بس کی چھت پر رکھ دیں۔جب میں احمد نگر پہنچا اور کتابیں دیکھیں تو چند کتابوں کے سوا باقی کتا بیں کہیں راستہ میں گر گئیں تھیں۔مجھے بہت فکر ہوئی کتابوں کے گم ہونے کا بہت سخت صدمہ ہوا۔پھر ایک دم میں نے حوصلہ کیا اور کتابوں کو ڈھونڈنے کا پکا ارادہ کر لیا اور اسی پکے ارادے کے ساتھ اللہ کا نام لیکر وہیں احمد نگر سے مولوی صاحب سے اُن کی سائیکل لی اور پھر لائل پور والے روٹ پر چل نکلا۔راستہ بھر ہر شخص کو پوچھتا جارہا تھا لیکن کوئی امید نہیں نظر آرہی تھی۔ہر انکار پر میری مایوسی بڑھتی جا رہی تھی لیکن میں دعائیں کرتا ہوا آگے سے آگے بڑھتا چلا گیا۔رجوعہ کے قریب کچھ مزدور سڑک بنا رہے تھے۔ان کے پاس رکا اور کتابوں کا پوچھا ان میں سے ایک نے بتایا کہ یہ ایک کتاب ہمیں یہاں سڑک سے ملی ہے اور ایک کتاب ہم نے اس گاؤں کے جوائی (داماد) کے پاس دیکھی ہے۔یہ گاؤں وہاں سے ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا اور میں اس شخص کا نام پوچھتا چھا تا اس کے گھر تک پہنچ گیا۔وہ شخص ابھی گھر نہیں پہنچا تھا لیکن اُسکی بوڑھی ماں موجود تھی اُس کو میں نے اپنی ساری بات بتائی۔اُس نے میری ساری بات سنی اور بڑی محبت سے بٹھایا اور گرم گرم دودھ پیش کیا جسے پی کر میری جان میں جان آئی کیونکہ میں صبح سے بھوکا پیاسا کتابوں کی پریشانی میں کھانا پیناسب بھول چکا تھا۔پھر وہ شخص بھی آگیا اور آتے ہی پوچھا کہ کیا آپ کتاب لینے آئے ہیں؟ میں نے کہا (259)