میری پونجی — Page 245
صاحب بھی ساتھ تھے۔ہم جب حویلی پہنچے تو ایک جم غفیر تھا۔انداز ایک ہزار کے قریب لوگ ہوں گے۔ہم نے اپنی جانب سے ایک غیر از جماعت دوست کو وقت کی پابندی کے لیے مقرر کیا جن کا نام سردار محمد صاحب تھا۔مناظرہ ہوتا رہا۔ایک موقعہ پر آکر مولوی صاحب نے اعتراض کیا کہ مرزا صاحب نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اس کا کسی حدیث میں بھی ذکر موجود ہے؟ ان کے اس اعتراض پر مولانا احمد خاں صاحب نسیم نے فرمایا کہ آپ کے ہاتھ میں جو کتاب ہے وہ مجھے دیں میں اس میں سے نکال کر دکھاتا ہوں۔مجھے کتاب کا نام تو یاد نہیں البتہ مصر کی طبع شدہ تھی اور حدیث کی کتاب تھی۔بہر حال مولوی صاحب نے سارے مجمع میں بلند آواز میں حدیث پڑھ کر سنائی کہ وہ نبی اللہ ہوگا ، وہ نبی اللہ ہوگا، وہ نبی اللہ ہو گا۔مخالف مولوی کو فرار کی کوئی راہ نہ ملی تو کہنے لگے کہ یہ تو حاشیہ میں لکھا ہے اس پر احمد خاں صاحب نسیم نے جواب دیا کہ یہ میں نے تو نہیں چھاپی ، مصر کی چھپی ہوئی ہے اور آپ کی کتاب ہے۔اس پر مخالف مولوی کو چپ ہونا پڑا۔اس شرمندگی سے بچنے کیلئے شور شرابہ ہونے لگا تو پہلوان صاحب کھڑے ہوئے اور لوگوں کو مخاطب ہو کر کہا کہ خبر دار اگر یہاں کسی نے فساد پیدا کرنے کی کوشش کی، ہم نے امن وامان کی ضمانت دے رکھی ہے اگر کسی نے ایسا کیا تو ہم نپٹ لیں گے۔اس طرح فساد ہونے سے رہ گیا۔پہلوان صاحب نے ہمیں کہا کہ اب آپ جاسکتے ہیں۔اس طرح الحمد للہ حجت تمام کرتے ہوئے ہم واپس لوٹے۔مناظرہ کے دوران بعض احمدی احباب بھی پہنچ گئے تھے جن میں سے ایک نام یاد ہے اور وہ تھے صوفی عبدالرحیم صاحب۔انہی دنوں کی بات ہے کہ مولوی احمد خاں صاحب کے ساتھ پروگرام بنا کہ عیسائیوں کے مشن ہاؤس جا کر تبلیغ کی جائے۔لہذا پروگرام کے تحت ہم ادھر پہنچے۔عیسائی مشنری سے گفتگو ہوتی رہی وفات مسیح اور دیگر موضوعات پر بات چلی۔وہاں بیٹھے ایک عیسائی بول اُٹھے کہ میں کئی مسلمان لیڈروں کے پاس گیا لیکن مجھے تسلی بخش جواب کسی نے نہ دیا۔آج آپ آئے ہیں تو میری تسلی ہوئی (245)