میری پونجی

by Other Authors

Page 224 of 340

میری پونجی — Page 224

جماعت کے کاموں میں امی نے ہمیشہ حصہ لیا۔پاکستان میں بھی میٹنگ پر با قاعدگی سے جاتی تھیں۔چندہ لینے کی ڈیوٹی اکثر امی کے حصہ میں ہی آتی تھی۔لندن آکر بھی گو باہر جانے کی ڈیوٹی تو نہ کی مگر یہاں بھی قرآن مجید گھر پر بچوں کو پڑھانا، میٹنگوں پر جانا ہوتا رہا۔جب تک اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہمت دی ابا جان امی کو لیکر ہر جمعہ پر جاتے تھے۔ہمیشہ مسجد میں فرش پر بیٹھتی تھیں۔اکثر ڈیوٹی والی عورتیں اُن کو کرسی پیش کرتیں مگر ہمیشہ اُن کا جواب ہوتا میں نے جس زمین میں جانا ہے اُسی پر سجدہ کروں گی ، مجھے کرسی نہیں چاہیے۔باقاعدہ بسوں پر مسجد جاتے اور اسی طرح میٹنگ پر بھی چلے جاتے۔چندوں میں کبھی دیر نہیں ہونے دیتی تھیں۔وصیت 113 کی کی ہوئی تھی۔پردہ کی اتنی پابند تھیں کہ زندگی کے آخری دم تک برقعہ پہنا۔اپنی امی جان کی قربانی، ایثار کا ایک اور واقعہ بیان کرتی ہوں۔ابا جان اور امی جان اُن دنوں Clapham میں رہتے تھے۔وہاں سے ہر روز بس میں بیٹھ کر ابا جان کے ساتھ خالد کے گھر ٹوٹنگ جاتے تھے۔امی جان شام کو بچوں کو پڑھاتیں اور رات کو خالد اپنی کار میں گھر چھوڑ جاتا۔امی جان کا گھر 19 ویں منزل پر تھا اس لیے خالد اُن کو ہمیشہ لفٹ سے گھر کے اندر تک چھوڑ کر جاتا کہ ایسے نہ ہو لفٹ خراب ہوا اور امی ابا جان کو کوئی پریشانی ہو۔ایک دن خالد کو کوئی کام تھا اور وہ پہلا دن تھا کہ اُن دونوں کو لفٹ کے اندر کر کے چلا گیا۔امی ابا جان جب اوپر گئے اور دروازے کو چابی لگائی تو دروازہ پہلے ہی کھلا تھا۔جیسے ہی انہوں نے پاؤں اندر رکھا چور بھاگ گئے۔جو جو بھی اُن کے ہاتھ آیا وہ پہلے ہی لے جاچکے تھے۔گھر کا سارا سامان بکھرا ہوا تھا، ظاہر ہے دونوں ڈر گئے اُلٹے پاؤں باہر آگئے۔اُن دنوں میں امی ابا جان کے گھر سے زیادہ دور نہیں تھی پھر بھی 15 منٹ تو لگ ہی جاتے تھے لیکن رات کے وقت اور پھر گھر میں چوری بھی ان سب باتوں کے ساتھ وہ دونوں بہت خوف زدہ میرے گھر پہنچے۔دونوں کا ڈر کے مارے بُرا حال تھا۔اُن کو بٹھایا پانی دیا اور ساری بات سنی پھر اُسی وقت پولیس کو فون کیا۔خالد اور سامی صاحب بچوں کولیکر سب وہاں پہنچ گئے چور پوری طرح گھر کا صفایا کر گئے ، امی ابا جان صرف انا للہ کا ورد کرتے رہے (224)