میری پونجی — Page 222
اُن کے پاس کچھ دن رہنے کا موقعہ بھی مل گیا۔انشا اللہ ، ہماری امی جان کی بہت ساری ادائیں اللہ تعالیٰ کو پسند آئیں گی اور جو اد ا سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والی ہوگی اور پیارے محبوب حضرت محمد صلی اینم کی زیارت ہوگی وہ ہے امی جان کا بے شمار بچوں کو قرآن مجید پڑھانا۔صبح شام دونوں وقت بچے پڑھنے کیلئے آتے تھے۔بچوں کو ، پھر ان کے آگے بچوں کو بھی پڑھایا۔ان کے پڑھانے کا انداز بھی نرالا تھا۔بجائے ڈانٹ ڈپٹ کے ٹافیاں اور میٹھی گولیاں رکھی ہوئی ہوتیں۔بچے شوق سے آتے اور خوشی خوشی پڑھ کر جاتے۔ایک دن اچانک میری امی جان نے جن سے قرآن کریم پڑھا تھا، وہ استانی جی امی کو ملنے آئیں۔آگے بچوں کی قرآن مجید پڑھتے ہوئے قطار لگی دیکھی تو بہت خوش ہوئیں اور کہنے لگیں کہ آج مولوی صاحب ( غالباً مولوی غلام نبی صاحب) کی روح بہت خوش ہو رہی ہوگی۔آگے تم بھی بچوں کو قرآن مجید پڑھا رہی ہو۔چونکہ بیگم جی نے مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھا 61 تھا۔( یہ مکرم احمد خان نسیم صاحب کی ہمشیرہ تھیں اور مولوی صاحب اُن کے بہنوئی تھے )۔میرے ابا جان کی استانی بھی میری امی جان ہی تھیں ان کو بھی قرآن مجید امی نے ہی پڑھایا۔اپنے نواسوں اور نواسیوں کو قرآن مجید پڑھاتے ہوئے ہمیشہ دعا مانگتی تھیں کہ اللہ مجھے اتنی زندگی دے دے کہ میں اپنے بیٹے کے بچوں کو قرآن مجید پڑھا دوں۔الحمد للہ۔ان کی یہ خواہش بھی اللہ نے پوری کی خالد کے چاروں بچوں کو امی جان نے قرآن مجید پڑھایا۔انتظار میں ہوتیں کہ کب ان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق ملے گی۔اگر امی جان رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں سے احسن طریقہ سے پیش آتی تھیں تو اپنے بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہونگی؟ ہمارے ابا جان ہمیشہ پاکستان سے باہر رہے۔خدا تعالیٰ پر توکل اتنا کہ کبھی لوگوں کی کہی کہلائی باتوں پر یقین نہیں کرتی تھیں۔ابا جان 17 سال افریقہ میں رہے۔کبھی سات سال بعد یا کبھی چھ سال بعد آتے۔لوگ امی جان کو بہت دل برداشتہ کرتے۔خاص طور پر یہ کہ تم لوگ یہاں بیٹھے ہو تمہارے میاں نے وہاں (222)