میری پونجی — Page 200
لیے افریقہ چلی گئیں۔وہاں سے اکثر پیار بھرے خطوط آتے رہے ، میں بھی جواب میں اپنی یاد کا رونا روتی تھی، اُن کی یاد تو مجھے آج بھی آتی ہے۔اُن کی وفات بھی افریقہ میں ہی ہوئی ،فوت ہونے سے پہلے میری شادی کے لیے زیور اور کچھ سوٹ خرید کر میرے ابا جان کو دیئے اور کچھ اُن کے تکیہ کے نیچے سے میرے نام کی چیزیں نکلیں جن پر میرا نام لکھا تھا۔وہ میرے پیار کو اور میں اُسے بھول نہیں سکتے تھے۔آج بھی میں ہمیشہ ہر نماز میں اُن کیلئے دعا کرتی ہوں۔یہاں سے اب میری دوسری اور اصل زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔میری پیاری امی جان امی جان حلیمہ بیگم صاحبہ مرحومہ (اہلیہ شیخ محمد حسن صاحب مرحوم) جو نہایت ہی رحیم ، اپنے نام کی طرح حلیم شفیق مشفق ، دعا گو بزرگ ہستی تھیں۔میری والدہ وہ خوش نصیب خاتون تھیں جن پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ان کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہوگئی تھی۔آپ کے والدین حضرت میاں فضل محمد صاحب ہر سیاں والے اور والدہ برکت بی بی صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں ۱۸۹۵ء میں حضرت اقدس مسیح موعود کی بیعت سے مشرف ہو کر اصحاب مسیح میں شامل ہو چکے تھے۔میری امی جان فروری ۱۹۱۳ء میں ہرسیاں میں پیدا ہوئیں۔اس خاندان نے لگ بھگ ۱۹۱۷ ء میں قادیان ہجرت کی اور دار الفضل میں رہائش اختیار کی۔اس طرح امی کو بہت کم عمری سے قادیان دارالامان کی بابرکت فضاؤں میں رہنا نصیب ہوا۔گھر کا ماحول بہت سادہ ، دیندار اور علم پرور تھا۔آپ کے بڑے بھائی حضرت مولانا عبد الغفور ابو البشارت صاحب (۱۸۹۸ء تا ۱۹۶۱ء) سلسلہ کے جید مناظر اور مبلغ تھے۔ایک بھائی مکرم صالح محمد صاحب (۱۹۰۶ ء تا ۱۹۷۵ء) کو بحیثیت تاجر مبلغ افریقہ میں خدمات کا موقعہ ملا۔ایک بھائی مکرم میاں عبد الرحیم صاحب دیانت ( ۱۹۰۳ء تا ۱۹۸۰ء) قادیان میں درویش رہے۔محترم محمد عبد اللہ صاحب 19/4/1911 کو ہرسیاں میں پیدا ہوئے۔سب سے چھوٹے بیٹے محترم عبدالحمد صاحب (شاہین سوئیس نیو یارک) امریکہ اپریل (200)