میری پونجی — Page 195
جانے کیلئے کہا۔ہم پھر اُسی طرح دیواریں پھلانگتے ہوئے واپس اپنے گھر آئے تو میری اماں نے وہ جو میری تھیلی میں پیسے تھے اور میری چاندی کی پازیب جوعید کیلئے بنوائی تھی ، وہ اُٹھائی۔ابھی میری اماں آگے بڑھنے ہی لگی تھی میرے چانے میرا اور میری اماں کا ہاتھ پکڑا اور پھر اُن ہی راستوں پر دوبارہ بھاگے کہ اب واقعی شر پسندوں نے ہلہ بول دیا تھا۔ہم لاشوں کے بازار سے گزرتے ہوئے کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں بھاگ رہے تھے۔یوں ہی بھاگتے بھاگتے ہم اپنے ابا جان کی پھوپھو کے گھر پہنچ گئے۔ہمارے علاوہ اور بھی ہمارے رشتہ دار وہاں پہنچ چکے تھے مگر سب کو اپنا اپنا فکر تھا۔اُس وقت کوئی کسی کا ہمدرد نہیں تھا بلکہ ہر کوئی اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا، ایک میں تھی جس کا ہاتھ مضبوطی سے میری اماں نے پکڑا ہوا تھا اور اُس مشکل گھڑی میں یہ دعا سکھائی جو آج بھی جب میں پڑھتی ہوں تو اپنی اماں کے لیے دعا کرتی ہوں۔دعا ہے: لا إله إلا أنتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ ہم ایک آن میں گھر والے ہونے کے باوجود مہاجر ہو گئے۔اب اُس مانگنے والی عورت کی طرح ہمارے پاس بھی گھر نہیں تھا۔ہم بھی اُن مہاجروں تک پہنچ چکے تھے جو مہاجروں کا کیمپ بنا دیا گیا تھا اور اب وہ قافلہ کی صورت میں پاکستان جانے کی انتظار میں تھے۔نہیں جانتی کہ کتنے دن ہم اُس کیمپ میں رہے مگر یہ ضرور یاد آتا ہے کہ کتنی خوفناک گھڑیاں تھیں۔آج بھی آنکھیں بند کروں تو اُن سرچ لائٹوں کی روشنیوں کو دیکھ سکتی ہوں جو رات بھر ہمارے اوپر ڈالی جاتی تھیں اور ہر تھوڑی دیر کے بعد یہ آواز آتی کہ ہوشیار شر پسند آگئے اور ہم سب ڈر کے مارے ایک دوسرے کہ ساتھ لپٹ جاتے۔اُن دنوں کی دھندلی دھندلی یادیں میرے ذہن میں باقی ہیں مگر یہ دھندلی دھندلی یادیں بھی نہایت خوفناک اور تکلیف دہ ہیں۔میں نے لوٹ مار قتل غارت اور آتشزنی کے بہت سے واقعات دیکھے ہیں (میرے سب بچوں نے یو کے میں ہی آنکھ کھولی ہے۔وہ پاکستان کی اہمیت کو نہیں جانتے میں ، جس نے ہر ہر قدم پر لاشیں دیکھی ہیں اور پاکستان کو بنتے دیکھا ہے اُس کی اہمیت (195)