میری پونجی

by Other Authors

Page 194 of 340

میری پونجی — Page 194

سجانا اور اُن کے اُوپر بیٹھنے کی رتھ بنائی ہوتی جس میں خاص خاص لوگ بیٹھتے تھے۔میری اماں نے مجھے میرے ماموں اور نانا کے ساتھ وہاں بھی بھجوایا۔پانی پت کرنال کی بات کر ہی رہی ہوں تو یہ بات بھی یاد آتی ہے کہ وہاں جو سب سے زیادہ بہتات تھی وہ تھی بندروں کی ، ہر وقت ہر چیز اُن سے چھپا کر رکھی جاتی تھی۔صبح آنکھ کھلتے ہی پہلے بندر نظر آتے تھے جتنا بھی کھانے کی چیزوں کو چھپا کر رکھ لیں وہ ڈھونڈ لیتے تھے۔گھر کے دروازے بند کریں تو روشندان سے آ جاتے بلکہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی تو وہ چھوٹے نوزائدہ بچوں تک کو اُٹھا کر لیجاتے تھے۔کرنال کی اور وہاں اُن سب رشتہ داروں کی میرے پاس بہت پیاری پیاری یادیں موجود ہیں اور وہ ہمیشہ رہیں گی۔بے لوث پیار کوکون بھول سکتا ہے؟ پارٹیشن سے پہلے کی بات ہے ایک مرتبہ کوئی مانگنے والی عورت جس نے گود میں ایک بچہ کو اٹھا یا ہوا تھا ہمارے گھر آئی۔وہ بہت رو رو کر اپنی رام کہانی سنارہی تھی جس کی مجھے کوئی سمجھ نہیں تھی۔پھر میری اماں نے کہا بیٹی اس کو کچھ دو۔اماں میرے ہاتھ سے صدقہ وغیرہ اکثر دلواتی رہتی تھیں۔مجھے یاد نہیں میں نے اسے کیا دیا ہوگا۔اماں نے اتنا بتایا کہ بیٹی جنگ لگی ہوئی ہے۔اب ان کے پاس گھر نہیں ہے۔میں بہت حیران تھی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس گھر نہیں ہے۔پھر کچھ ہی دنوں کے بعد میری اماں نے مجھے بتایا کہ بیٹی اب انڈیا آزاد ہو جائے گا۔یہ بات میری سمجھ سے بالکل باہر تھی کہ انڈیا اب آزاد ہو جائے گا اور پاکستان بن جائے گا۔گورے واپس چلے جائیں گے۔اب اکثر کر فی بھی لگنے لگے۔اپنی اماں کو ڈرا ہوا اور فکر مند دیکھتی تو میری بھی جان نکل جاتی مگر میری سمجھ سے یہ سب باہر تھا کہ گورے کیا ہیں اور آزادی کیا ہے؟ وہ تو میرے چچا منظور نے ایک دن ہمیں جلدی سے گھر سے بھاگنے کیلئے کہا کہ شر پسند آ گئے ہیں حملہ ہو گیا ہے، جلدی جلدی بھا گو۔ہم جیسے تھے جو چیز جہاں پڑی تھی ویسے ہی چھوڑی اور ایک چھت سے دوسری پر پھلانگتے ہوئے ہم سات یا آٹھ گلیاں جب گزر گئے تب مجھے نہیں معلوم کہ کس نے ہمیں دوبارہ واپس گھر (194)