میری پونجی — Page 133
آپ اپنی صحت کا خیال کریں اور تکلیف نہ اٹھائیں لیکن جناب غلام محمد صاحب کی بھی اپنی ایک ہی ضد تھی کہ وہ آئیں گے۔چنانچہ عزم و استقلال کے اس پیکر نے اپنی تمام خستہ حالیوں کے باوجود تیمارداری کا شوق پورا کیا۔کتنی پیاری تھی ضد جس نے حسرت مٹا کر ہی دم لیا۔حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا حضرت خلیفہ المسح الثانی جب انگلستان سے واپس تشریف لائے تو آپ کی کوٹھی تعمیر ہو چکی تھی۔واپسی کا پروگرام کسی قدر سرعت اور خاموشی میں طے پایا تھا۔اس موقع پر خاکسار کے سپرد جماعت کراچی کی طرف سے دو اہم ذمہ داریاں عائد ہوئیں۔اوّل یہ کہ حضرت صاحب کی سفر سے بخیریت واپسی کے لیے دو بکرے جماعت کی طرف سے صدقہ کئے جائیں۔چنانچہ خاکسار چند خدام کے ساتھ بکرا پیڑی گیا اور زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ اپنے ہاتھ سے دو جانور صدقہ کے لیے ذبح کئے اور پھر گوشت مستحقین میں تقسیم کروایا۔وقت اتنا کم تھا کہ شام کی پرواز سے حضور کی تشریف آوری تھی اور جماعت کے درجن بھر کارکنان خدام چوہدری عبد اللہ خان صاحب کی معیت میں استقبال کے لیے ائیر پورٹ پر جاچکے تھے۔خاکسار کے سپرد چونکہ رہائش گاہ کی دیکھ بھال کے اہم انتظامات کر دیئے گئے تھے اور مستعد خدام کا ایک گروپ بھی ساتھ تھا اس طرح یہ دونوں ذمہ داریاں مختصر وقت میں خوش اسلوبی سے طے پائیں۔حضور انور جب واپس تشریف لائے تو صحت اچھی تھی اور معمول کے مطابق مصروفیت اور ملاقاتیں شروع ہوگئیں۔ایک روز خاکسار جب اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے قیام گاہ پر پہنچا تو دیکھا کہ مولوی عبدالحق صاحب بابائے اردو انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔مولوی صاحب کی زندگی کا یہ بہت نازک دور تھا۔تجردانہ زندگی، عمر کے تقاضے، اردو کالج اور ٹرسٹ کے تعلقات میں کشیدگی یہ ساری باتیں یکدم ان کی شخصیت پر براہ راست اثر انداز ہورہی تھیں۔مالی حالت اس جگہ جا پہنچی تھی جہاں سے شروع ہوئی تھی۔یعنی نان نفقہ کا بندوبست بھی (بواسطہ چو ہدری محمد ظفر اللہ خان (133)