میری پونجی — Page 99
کرنے والی خاتون تھیں۔پیار محبت کا درس اُن سے ملا۔اماں جی ابا جی کو ہم نے دیکھا کہ جب بھی اُن کو کہیں جانا ہوتا وہ دونوں اکٹھے جاتے۔اماں جی اباجی کے ہر چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کام خود انجام دیتی تھیں یا اپنی نگرانی میں ہم سے کرواتیں۔اباجی ہمیشہ سفید کپڑے اور سفید چاولوں کی مایا لگی ہوئی پگڑی پہنتے اور پگڑی کو سکھانے کی ہماری ڈیوٹی ہوتی۔ہمیں خاص ہدایت ہوتی کے پگڑی کے کونے نہ پکڑے جائیں بلکہ ایسے سکھایا جائے کہ اسکا کوئی کونا نا نکلے۔ہر کام میں سلیقہ سکھایا جاتا۔رمضان شریف میں باقاعدگی سے سحری اور افطاری کا خاص اہتمام ہوتا۔تراویح ، درس قرآن کریم کے لیے سب بچوں کو ساتھ لیکر چلتے۔اباجی چنیوٹ کے محلہ کی چھوٹی سی مسجد میں باقاعدگی سے باجماعت نماز ادا کرتے ، اذان بھی دیتے اور قرآن کریم اور حدیث کا درس دینے کی بھی سعادت نصیب ہوتی۔ابا جی اور اماں جی سے لوگ دعائیں کرواتے تھے اور الحمد للہ انکی بے شمار دعائیں ہم نے بارآور ہوتے بھی دیکھیں۔میری امی ابوجی کراچی میں قیام پذیر تھے۔ابو جی کو ٹائیفائڈ ہو گیا۔تین ماہ شدید بیماری اور تکلیف میں گزرے۔آخر ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ اگر تین دن خیریت کے گزر گئے تو سمجھیں بلاٹل گئی۔پھر ابا جی نے دن رات دعائیں کیں، اپنے سر پر پگڑی نہیں رکھی۔اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ ریز رہے۔اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔اُس نے اباجی کی گریہ وزاری قبول فرمائی اور میرے ابو جی ٹھیک ہو گئے۔پھر اسی طرح میری چی سیدہ ، جو کہ تقریباً ساٹھ سال سے او پر ہی ہونگی ، کو فالج ہو گیا۔بہت پریشانی ہوئی۔دعا ئیں تو سب نے بہت کیں مگر ابا جی نے اپنے اللہ میاں کو اپنی دعاؤں سے منایا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اُس بزرگ کے آنسوں اور آہوں کو قبولیت بخشی۔اس ناممکن کو اللہ نے ممکن میں بدل دیا اور میری چی اپنے پاؤں پر پھر کھڑی ہوگئیں۔جبکہ ڈاکٹر کہتے تھے کہ اگر اس عمر میں ایسا ہو جائے تو مریض ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ہمارے اپنے ہی گھر میں ایسے بے شمار واقعات ہیں جو اماں جی (99)