میری پونجی — Page 95
بن چکا تھا۔آدھی رات گزری ہوگی کہ موسلا دھار بارش ہو نے لگی۔ہم ابھی سوئے ہی تھے کہ دروازے کھٹکنے لگے باہر دیکھا تو گاؤں کا گاؤں بارش سے بچنے کیلئے امڈ پڑا تھا۔اماں جی نے گھر کے سب دروازے کھول دئے۔گاؤں والوں نے بھی سمجھداری سے کام لیا۔عورتوں اور بچوں کو اندر بھجوادیا اور مرد باغ میں ہی اپنے گڑوں پر بوریاں تان کر رات بسر کرنے لگے۔بارش تھی کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔قادیان کی بارشوں کا حال سبھی قادیانی حضرات جانتے ہیں۔وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی بارشیں بھی اسی طرح بے تحا شا برستی چلی آئی ہیں۔اس کے نظاروں کا حال بھی اظہر من الشمس ہے۔بارش کے اس سے اماں جی نے گھر کے تمام بستر ، چار پائیاں ،غرضیکہ ہر چیز اپنے ان مہمانوں کے سامنے پیش کر دی۔گھر کا کوئی کمرہ اپنے بچوں کیلئے علیحدہ نہیں کیا ، یوں لگتا تھا کہ بھانبڑی کا بھانبڑی ہمارے گھر کا کنبہ ہے۔جہاں جہاں جگہ ملی چولہے جلا دئے گئے۔اماں جی کہیں بچوں کا دودھ گرم کر رہی تھیں ، روٹیاں ہیں کہ مسلسل پکتی جا رہی تھیں۔سٹور میں سردیوں کیلئے جمع شدہ ایندھن ان کے سپر د تھا۔گاؤں کی عورتیں بہت باہمت تھیں، شیر خوار بچے گود میں تھے۔بارش سے گیلی ہو رہی تھیں مگر ہر کام مستعدی سے کر رہی تھیں زیورات سے بھری ہوئی تھیلیاں ان سے سنبھالی نہ جاتی تھیں۔بلا تکلف انہوں نے یہ تھیلیاں اماں جی کے پاس امانتا ڈھیر کر دیں۔تقریباً ایک ہفتہ یہ سلسلہ چلتا رہا مجھے یاد نہیں کب رات ہوتی تھی ، کب دن چڑھتا تھا۔اتنے بڑے میلے میں دن رات کا کوئی تصور ہی باقی نہ تھا۔ادھر بارش کا زور اس قدر تھا کہ زیادہ عرصہ پورے گاؤں کو چند گھروں میں سمیٹنا مشکل ہو رہا تھا۔چولہے چوبیس گھنٹے جلنے کے باوجود ضرورت پوری نہیں کر رہے تھے۔بالآخر جانے کس طرح تختوں کی بنی ہوئی کشتیوں پر تیرتے ہوئے خدام لنگر خانہ سے روٹیاں لائے۔جب تقسیم ہو رہی تھی تو کوئی چھینا جھپٹی نہ تھی۔بھا نبھڑی کے لوگ اپنے چودھریوں کے مشوروں پر چلتے تھے۔ہر جگہ اپنے وفد کو آگے کرتے (95)