میری پونجی — Page 75
عقیدت رکھتے تھے کہ انہیں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر بلا کر اپنے ہاں ٹھہراتے انکی خدمت کرتے اور ان کی دعاؤں کا فیض پاتے۔اسی طرح حضرت صاحبزادہ ایم ایم احمد صاحب سے بھی دعاؤں کا تعلق قائم تھا۔اگر چہ وہ بھی ایک وقت میں صدر پاکستان کے پرنسپل سیکرٹری رہے۔مگر ان کے ساتھ جو محبت کا تعلق تھا وہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی وجہ سے تھا۔خاندان حضرت مسیح موعودؓ کے افراد سے فرداً فرداً ، سردار صاحب کے دلی محبت وانس سے بھر پور تعلقات تھے۔حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب ، حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت سید حافظ محمود اللہ شاہ صاحب اور حضرت نواب عبداللہ خان صاحب کے ساتھ ایک گونا گوں محبت تھی۔اور ان سب کی شفقت ان کے لیے باعث صد افتخار تھی۔اسی طرح وہ متبرک وجود جو اپنے اپنے وقت پر سید نا حضرت اقدس مسیح موعود کی وصیت کے مطابق قدرت ثانیہ کے مظہر ہوئے انکے ساتھ انکی عقیدت اور محبت کا تو رنگ بالکل ہی جدا تھا۔حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب انکی زندگی میں وفات پاگئے۔انکے بھائی صاحبزادہ میاں عبدالرحیم صاحب خالد تو اپنے انگلستان میں طالب علمی کے زمانہ میں انکے ساتھ تبلیغی کاموں میں محمد بھی رہے تھے۔حضرت نواب عبد اللہ خان صاحب کے سبھی بچے محترم سردار صاحب کے لیے اپنے والد بزرگوار کے تعلق کی وجہ سے عزت و احترام رکھتے تھے۔بقضائے الہی جب حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا انتقال ہوا ، سردار صاحب کراچی میں تھے اور اپنی معذوری کے باعث سفر کے قابل نہ تھے۔اس سانحہ پر جو انہوں نے تعزیت کا خط مکرم میاں عباس احمد خان صاحب کے نام لکھا وہ خط سیرت و سوانح دخت کرام میں طبع شدہ ہے۔اسکو پڑھ کر ، جہاں اس متبرک خاندان کے ساتھ ان کے غم اور جذبات کا پتہ چلتا ہے وہاں انکے تعلق، اخلاص ومحبت کا بھی خوب اندازہ ہوتا ہے۔سوانح دخت کرام کے صفحہ 167 پر یہ خط اس طرح مندرج ہے۔مکرم محترم سردار مصباح الدین صاحب سابق مبلغ انگلستان کراچی سے تحریر فرماتے ہیں: (75)