میری پونجی — Page 42
ان کے علاوہ مکرم سید محمود اللہ شاہ صاحب سے بھی ان کی لنڈن سے ملاقات تھی اور رشتہ محبت قائم تھا۔ڈاکٹر صاحب جتنے دن بھی قادیان رہے اس سرزمین پر عاشقانہ فدائیت کے ساتھ وقت گزارا۔یوں بھی ڈاکٹر صاحب فدائیت کا ایک نمونہ تھے اور اس فدائیت میں ہی ساری زندگی گزار دی۔الحمد للہ یہ عاجز ایک پورے کنبہ کے جماعت حضرت مسیح موعود میں شامل ہونے کا ذریعہ بن گیا۔“ حضرت نیر صاحب کی نائجیریا سے واپسی 6 جنوری 1923ء کو حضرت مولوی عبد الرحیم نیر صاحب جو نائجیر یا مغربی افریقہ میں کام کر رہے تھے رخصت پر وطن لوٹے اور رستہ میں لنڈن ٹھہرے۔گرم ملک اور جانفشانی سے کام کرتے رہنے سے ان کی صحت بہت کمزور ہوگئی تھی۔الفضل 19 فروری 1923ء کی اشاعت میں حضرت نیر صاحب اپنی صحت کے بارے میں لکھتے ہیں : دد لمبی بیماری اور سفر کے باعث صحت کی حالت دیکھ کر ڈاکٹر کے حکم کے مطابق انگلستان بغرض تبدیلی آب و ہوا بھیجا گیا ہوں۔6 جنوری کولنڈن پہنچا ہوں اور دو ہفتہ کے قیام سے صحت میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔لحمد للہ بعد میں بحالی صحت کے لیے کچھ وقت لنڈن ٹھہرنے کی اور اجازت چاہی جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے منظور فرمائی۔“ حضرت نیر صاحب الفضل 19 فروری 1923ء کی اشاعت میں اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ : در جسم میں طاقت آنے کے ساتھ مبلغین لنڈن کو ان کے کام میں امداد دینی شروع کر دی ہے۔“ ہائڈ پارک میں انہوں نے خطاب فرمایا اور مزید اگلے چار ہفتہ وار اجلاس میں تقریر کا اعلان فرمایا۔محترم سردار صاحب لکھتے ہیں کہ: حضرت نیر صاحب " نمونہ کے مبلغ تھے۔نہ صرف فن تبلیغ کے لحاظ سے بلکہ وہ مبلغ (42)