میری پونجی — Page 331
ساجدہ سے ہوئی ہے۔ان کے بھی تین بچے ہیں۔بڑا بیٹا عثمان احمد ، حارث احمد ، بیٹی عروشہ احمد۔یہ بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور بیلجیم میں آباد ہیں۔پھر ہماری بیٹی سارہ ہے جس کی شادی عبدالمصور خان صاحب ابن عبد المومن خان صاحب سے ہوئی ہے۔ان کے بھی تین بچے ہیں۔بڑا بیٹا عبد ایمن خان، جہانگیر احمد خان، بیٹی انیقہ خان۔پھر ہمارا آخری بچہ عکاشہ احمد جس کی شادی اُس کے ابو کی وفات کے بعد ہوئی۔عکاشہ احمد کی شادی خواجہ عبد الکریم صاحب کی بیٹی عروج سے ہوئی۔ان کے بھی ماشاء اللہ تین بچے ہیں۔بڑا بیٹا امان احمد، علیشہ احمد اور سب سے چھوٹا میرا پوتا رحیم احمد ہے۔مجھے اپنے نواسے نواسیوں ، پوتے پوتیوں سے بے حد پیار ہے اور ماشاء اللہ وہ سب بھی مجھے بہت پیار کرتے ہیں۔الحمد للہ! کتنے کرم ہیں مجھ پر۔اگر میں ساری زندگی بھی اُس خالق مالک کے آگے سجدہ ریز رہوں تو بھی ایک ذرہ بھر اس شکریہ کا حق نہیں ادا کر سکتی۔سامی صاحب دنیا سے کیا گئے میں تو بالکل بے سہاراسی ہوگئی تھی۔آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا کہ اب کیا ہو گا۔سب بچے اپنے اپنے گھروں میں ہیں ، میں کیا کروں گی۔مجھے تو آج تک یہ نہیں علم تھا کہ بجلی یا فون کا بل کیسے ادا کرنا ہوتا ہے۔بینک کے کارڈ سے پیسے لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔میں تو مشین میں کارڈ ڈالتے ہوئے ڈرتی تھی کہ جانے کیا ہو جائے گا۔سامی صاحب اکثر مجھے کہتے تھے کہ تم یہ باتیں سیکھ لو لیکن میں ہمیشہ ہنس کر بات کو بدل دیتی کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں یہ سب سیکھوں۔لیکن اللہ تعالیٰ سب جانتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔وہی جس پر مجھے اپنے آپ سے بھی زیادہ بھروسہ تھا وہ صبح شام میری تربیت کرتا تھا، مشکل اور آسان راہوں کی پہچان کرواتا تھا۔جب وہ ہی میرا ساتھ چھوڑ گیا تو میری دنیا نے تو اندھیر ہونا ہی تھا۔لیکن قربان جاؤں اُس ذات پاک کے جس نے خود میرا ہاتھ پکڑ لیا۔مجھے اس سے زیادہ طاقتور سہارا کہاں سے مل سکتا تھا۔جانے والے کی یاد تو دل سے کبھی بھی نہیں گئی لیکن جب اللہ میرا سہارا بن (331)