میری پونجی — Page 330
سب میرے پاس تشریف لائے، ہمیشہ اچھی ہی یادوں کے ساتھ رخصتی ہوتی۔اس بات کو لے کر آج بھی حیران ہوتی ہوں کہ میں، جس میں کوئی خوبی نہیں تھی ، نہ علمی لحاظ سے، نہ ہی کوئی بہت دینی قابلیت تھی۔معمولی سی گھر یلولر کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے بھاگ کھول دئے۔پڑھا لکھا ، ادیب، عالم منشی فاضل، گریجوایٹ ، جماعت کی خدمات بجالانے والا نوجوان میرے حصہ میں آیا۔بعد میں انہوں نے اردو ایم اے بھی کر لیا۔خاموش ، برد بار، خوش اخلاق، پیار، محبت لٹانے والا شوہر پاکر کون ہے جو خوش نہ ہو۔میں بھی بہت خوش تھی لیکن بالکل نہیں جانتی تھی کہ وہ کیسے خاموشی سے مجھے بتائے بغیر میری تربیت کرتے رہے۔میری ذات جو بکھری بکھری تھی اُس کو سمیٹتے ہوئے میری آبیاری کرتے رہے۔میری اوقات سے زیادہ مجھے پیار دیا عزت دی۔ہر بات میں مشورہ کرتے تھے۔زندگی میں بہت مشکلات آئیں۔کوشش کرتے تھے کہ مجھے کم سے کم بتائیں الحمد للہ! میں پانچ بچوں کی ماں بنی۔کن کن لفظوں سے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں۔اُس ذات نے مجھے دینے میں کہیں کمی نہیں آنے دی۔اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں سے بہت بڑا احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم نے اپنے بچوں کی شادیاں کیں۔سب سے پہلے ہماری بیٹی لینی عالیہ کی شادی گوہر مقصود صاحب ابن چوہدری عطا اللہ صاحب ( مرحوم ) سے ہوئی جن کے ماشاء اللہ چار بچے ہیں۔بڑا بیٹا مصور مقصود ، بیٹی شمامہ صدف ،شہزانہ کنول، شکیبہ، ماشاء اللہ سب اچھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔الحمد للہ! میری ایک نواسی شمامہ صدف کی شادی ثاقب عزیز صاحب کے ساتھ ہوئی ہے جو شادی کے بعد شارجہ میں مقیم ہے۔پھر ہمارا بیٹا منیر شہزاد جس کی شادی خواجہ منیر احمد صاحب ( مرحوم ) کی بیٹی شازیہ سے ہوئی۔ان کے ماشاء اللہ تین بیٹے ہیں بڑا بیٹا شہزیب احمد ، جہانزیب احمد اور ز او یار زیب احمد ہیں۔تینوں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کینیڈا میں آباد ہیں۔تیسرے نمبر پر ہمارا بیٹا بلال بشیر احمد ہے جس کی شادی اویس احمد صاحب کھو کھر کی بیٹی مبشرہ (330)