میری پونجی — Page 209
ہم سب بچے مٹی کے تسلے بھر بھر کر امی کو پکڑاتے۔امی نے وہی سر پر پگڑی کی طرح دو پٹہ باندھا ہوا ہوتا تا کہ باہر لوگوں کو لگے یہ کوئی مرد ہی کام کر رہا ہے۔کچے گھروں سے بلکہ یہ کہنا چاہئے مٹی کے گھروندوں سے نکلنے کا وقت آ گیا۔اب کچھ ہم بھی بڑے ہو رہے تھے اور ابا جان کی طرف سے منی آرڈر بھی آنے شروع ہو گئے تھے۔ایک دن میری امی جان کو خالہ سائرہ نے کہا سعیدہ کی امی ( امی کو اس طرح ہی وہ بلاتی تھیں میری بڑی بہن کے نام سے ) دار براکات میں ہم زمین لینے لگے ہیں کیوں نہ ہم مل کر ایک کنال لے لیں۔دس مرلے ہم اور دس مرلے آپ لے لیں۔امی کو یہ بات بہت پسند آئی اور جوز میں انہوں نے پسند کی تو امی جان اور ہم بچوں کو بھی ساتھ لے کر وہ جگہ دیکھنے گئے۔امی جان کے مشیر ہم پانچوں بچے تھے۔زمین کیا دیکھی !کلر، بیابان، پانی بھی نمکین۔دور دور تک کوئی گھر نہ گھر کا نشان۔پر یشانی تو بہت ہوئی لیکن پھر تسلی اس بات سے ہوئی کہ جو زمین ہم لے رہے تھے اُس کے ساتھ ایک گھر بنا ہوا تھا۔اس فیملی کو ہماری امی جان فیصل آباد سے جانتی تھیں کہ وہاں اُن کے گھر وہ چندہ لینے جاتی تھیں۔اس تسلی سے ہماری امی جان نے زمین لینے کی حامی بھر لی۔زمین کے بعد اب مکان بنانے کی باری تھی۔میرے ابا جان تو یہاں تھے نہیں۔میری امی نے سر دھڑ کی بازی لگائی۔خود ہی آرکیٹیکٹ بن گئیں ، خود ہی زمین پر نقشہ بنا یا ٹھیکد ارڈھونڈے۔ہر روز محلہ دارالرحمت سے مزدوروں کے سر پر کھڑے ہونے کے لیے محلہ دار البرکات جاتیں۔دن رات کھڑے ہو کر نگرانی کرتیں۔ان دنوں یہ مسافت بہت زیادہ تھی اور کوئی سایہ دار درخت یا سواری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔الحمد للہ ! ہماری امی جان کی محنت بر آئی اور ہمارا گھر بن گیا۔گھر بن جانے پر ہم اپنا سامان ریڑھے پر لاد کر اپنے نئے اور مستقل گھر میں آگئے۔اب ہم بھی اپنے گھر والے اور پکے گھر والے ہو گئے۔امی جان نے سب سے پہلے گھر میں نل لگوایا۔بیشک نمکین پانی تھا مگر باقی ضروریات کے لیے پھر بھی پانی کی ضرورت تو تھی۔ماشکی سے پینے کا میٹھا پانی لیتے تھے، اکثر میٹھا پانی کم ہو جا تا۔ہر (209)