میری پونجی

by Other Authors

Page 196 of 340

میری پونجی — Page 196

اور قدر جانتی ہوں۔آج بھی ربوہ اور پاکستان میرے دل میں بستا ہے، گو کہ میری اپنی بھی پوری زندگی اب اس ملک کے ساتھ ہی وابستہ ہو گئی ہے ) آخر وہ گھڑی آگئی جب ہم نے ٹرین میں بیٹھ کر پاکستان جانا تھا۔وہ بھی آج تک میرے ذہن پر نقش ہے ، ایک ٹرین اور بھیڑ بکریوں کی طرح بھرے ہوئے ہزاروں لوگ۔رونے کی آوازیں لڑائی ، دھکم پیل ، ہنگامہ شور ، لوگ ایک دوسرے سے بچھڑے ہوئے ہم نے بھی ایک دوسرے کا مضبوطی سے ہاتھ پکڑا ہوا، اس ڈر سے کہ ہم بچھڑ نہ جائیں اور ٹرین میں جگہ بھی مل جائے۔موقعہ اور جگہ دیکھ کر میرے چچانے مجھے اور میری اماں کو زبردستی ٹرین کے ڈبہ میں دھکا دیا جہاں پہلے ہی لوگ ایک دوسرے کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے۔ہم ماں بیٹی بھی اُن میں شامل ہو گئے مجھے او پر سامان والی برتھ پر جگہ ملی جہاں مجھے اٹکا دیا گیا اور پورے راستہ میری اماں نے مجھے ہاتھوں کے سہارے سے سنبھالے رکھا۔اب بھوک کے مارے میرا بُرا حال تھا اور کچھ لوگ اپنے بچوں کو کھانا دے رہے تھے۔( آج بھی مجھے اپنے ندیدے پن پر ہنسی آتی ہے کہ میں اُن کھانے والوں کو کیسے دیکھ رہی تھی ) اور میری اماں کی آنکھوں سے آنسو نہیں تھم رہے تھے کہ اُس کی نازوں کی پلی جس کے لیے وہ ہر وقت اُس کی خوشی اور خواہش پوری کرنے کے لیے تیار رہتی تھی وہ لوگوں کے کھانے کو حسرت سے دیکھ رہی ہے۔میرے چچا جان نے بھی بہت مشکل حالت میں سفر طے کیا۔ٹرین کے دو ڈبوں کو جہاں جوڑا جاتا ہے اُس خطر ناک جگہ پر وہ بیٹھ کر آئے ، ذرا سے جھٹکے سے لوگ وہاں سے گر کر ٹرین کے نیچے آ جاتے تھے۔الحمد للہ ، اللہ تعالیٰ نے اپنی حفاظت میں رکھا۔یہ تو نہیں جانتی کہ سفر میں کتنا وقت لگا ہوگا مگر اپنی اماں کے چہرے کی خوشی سے ظاہر ہو گیا کہ ہم اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے ہیں۔جب سٹیشن پر گاڑی رکی تو ہم غم کے ماروں کو جوسب سے پہلی خوشی ملی وہ یہ تھی سٹیشن پر میرے ابا جان موجود تھے۔میرے ابا جان اکیلے فیروز پور میں رہتے تھے (196)