میری پونجی — Page 132
استقبالیہ کمرہ کے سامنے روکی گئی۔مکرم درد صاحب اس معزز مہمان کے استقبال کے لیے آگے تشریف لائے۔گورنر جنرل سوٹ میں ملبوس تھے، جناح کیپ پہن رکھی تھی اور کار کی پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے۔چہرہ پر سنجیدگی اور وقار تھا۔اور نظریں اشتیاق سے لبریز تھیں۔خاکسار نے حضرت صاحب" کی طرف نگاہ ڈالی تو آپ کی پیشانی پر صحت مندانہ روپ نکھرا ہوا نظر آیا۔گورنر جنرل کی کار کا دروازہ ملٹری ایڈیٹر نے کھولا اور بازوؤں سے تھام کر جناب غلام محمد صاحب کو اپنی نشست سے اٹھایا۔جسم میں لرزہ تھا۔کھڑا ہونے کی سکت نہ تھی ، پاؤں زمین پر سکتے نہ تھے۔قد لانبا ہمگر کوئی جھول نہ تھی۔منہ سے پانی اور جھاگ سی نکلتی تھی جسے ایڈیٹرز سفید رومال سے صاف کر رہے تھے۔یہ نحیف و نزار مہمان ، آج اپنے چند لرزتے ہوئے قدموں کے ساتھ حضرت امام جماعت احمد یہ خلیفہ اسیح الثانی کے سامنے تیمارداری کے لیے حاضر تھا۔اس پر رقت طاری تھی ، استقبالیہ کمرہ کی خامشی میں ڈوبی ہوئی کئی ہلچلوں کی دھوم باہر تک سنائی دے رہی تھی۔اس کیفیت میں کہاں تک لب ہے، اگر ہلے بھی تو ذرہ سی جنبش نے نجانے جذب و شوق کی کتنی داستا نہیں کہہ ڈالی ہونگی۔چند ساعتوں کی یہ ملاقات پلک جھپکتے ختم ہو گئی۔حضرت امام جماعت احمدیہ کا یہ بیمار اور بے کس تیمار دار جن سہاروں اور لرزتے ہوئے قدموں سے حاضر خدمت ہوا، انہی پر واپس اپنی شاہی سواری میں بیٹھا دیا گیا۔چہرہ پر بلا کی خاموشی سنجیدگی ، متانت اور گہری اداسیوں کے آثار نمایاں تھے۔یوں لگتا تھا جیسے اپنی آس اور پیاس بجھا کر اس اطمینان کو پالیا ہے جو نہ حاصل ہوتا تو اسے حسرت ہی رہ جاتی۔جذ بہ وشوق ، افسردگی و یاس میں ڈوبی ہوئی اس تاریخی ملاقات کا منظر جب بھی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے تو دل سے اک ہوک سی اٹھتی ہے۔واہ! کس قدر روح پرور نظارہ تھا۔آہ ! کس قدر دلخراش جدائی تھی !! جناب غلام محمد صاحب صبح سے ہی عیادت کے لیے بے تاب تھے۔حضور کا بے حد اصرار تھا کہ (132)