معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 37
37 صورت میں قبل از وقت پیشگوئی کی گئی ہے کہ حضرت یوسف کی رویاء کے مطابق جو واقعات آپ کو بعد میں پیش آئے وہی مستقبل میں آپ کو بھی پیش آنے والے ہیں۔حضرت مصلح موعود نے اس ضمن میں قرآن اور تاریخ عہد نبوی کا باریک نظری سے گہرا مطالعہ کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اٹھارہ مشابہتیں حضرت یوسف کے ساتھ بیان فرمائی ہیں۔جس کے نتیجہ میں بر دنیا کے معراج کا پس منظر بھی بالواسطہ طور پر کھلے باب کی طرح سامنے آگیا ہے۔وجہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت یوسف کے واقعات کے ساتھ جو ماثلتیں پیدا ہوئیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امام الانبیاء اور نبیوں کے شہنشاہ ہونے کے باعث یوسفی شان سے ہزاروں درجہ بڑھ کر تھیں۔مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام نے حکومت مصر کا وزیر بننے کے بعد اپنے 11 بھائیوں کو معاف کیا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے ار ہا جانی دشمنوں کو ضو عام کا اعلان فرمایا جس کی کوئی نظیر صفحہ تاریخ میں نہیں مل سکتی۔کمال یہ ہے کہ اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت یوسف ہی کے الفاظ میں ارشاد فرمایا لا تشریب علیکم الیوم“ اسی طرح یہ واقعہ ہے کہ جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو آپ کے بھائیوں نے گھر سے نکال کر کنویں میں اس لئے پھینک دیا کہ یہ بڑا ہونے کی خواہیں دیکھتا ہے، اسے نکال دیں گے تو ذلیل ہو جائے گا۔یہی ذہنیت قریش مکہ کی تھی مگر جہاں حضرت یوسف علیہ السلام کو ہجرت کے بعد ایک بادشاہ کی ماتحتی میں ایک شاندار نیاتی عزت ملی جس کی وجہ سے آپ کے والدین اور گیارہ بھائی آپ کے زیر اقتدار آگئے وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کے بعد مدینہ کی آزاد حکومت کا ایسا بادشاہ بنا دیا کہ آپ کے بعد آپ کے غلاموں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے قیصر و کسرٹی جیسی اپنے زمانہ کی دو عظیم ترین مملکتوں کے تاج مثل دیئے گئے اور چین سے ہندوستان تک کلمہ طیبہ کا پھر میرا پوری آب و تاب سے لہرانے لگا۔۔ہوئے وہ قیصر و کسری کے کر و فر بر باد تقیم مکہ کے جب بوریا نشین گئے (حسن رہتائی)