معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 27
27 کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھالیا گیا اور خدا کی داہنی طرف بیٹھ گیا (مرقس کی انجیل باب 16 آیت 20 ) پروفیسر صاحب نے یہ حوالہ درج کرنے کے بعد اگلے صفحہ 198 پر سورہ بنی اسرائیل کی معراج کی نسبت پہلی آیت درج کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ دونوں واقعات ایک ہی اصول پر مبنی ہیں جو ان میں سے ایک پر یقین رکھتا ہے کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے پر یقین نہ کرے ان دونوں آیات میں اہم حقائق یہ ہیں:- -1 حضرت عیسی علیہ السلام کی بغیر موت کے آسمان کی طرف اٹھان جیسا کہ وہ خدا کے بائیں طرف بیٹھ گیا جس کا بائبل کی آیت میں ذکر ہے۔-2- حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا تھا۔صرف فرق یہ ہے کہ وہ واپس مکہ تشریف لے آئے۔“ ( صفحہ 198) آنحضرت کا سفر معراج کتنے وقت پر مشتمل تھا ، اس کی تشریح سعودی عرب میں سے المالية الملک شاہ فہد کی طرف سے چھپنے والے اردو ترجمہ کے صفحہ 765 میں بایں الفاظ کی گئی ہے:۔چالیس راتوں کا یہ دور دور از سفر پوری رات میں بھی نہیں بلکہ رات کے ایک قلیل حصہ میں ہوا۔“ چونکہ اس نظریہ پر یہ واضح اشکال پیدا ہوتا تھا کہ زمین والوں پر وقت کی رفتار کا کیوں اثر نہیں ہوا اس لئے ایک اور محقق " آغا غیاث الرحمن انجم صاحب کو یہ دلچسپ تو جیہہ اختراع فرمانا پڑی کہ جب حضور کائنات کے جسم سے باہر کا ئنات آسمانی میں تشریف لے گئے تو کائنات میں سے روح نکل گئی اور یہ ساری کائنات اور کائنات کی تمام چیزیں بے حس و حرکت رہ گئیں۔نہ کائنات حرکت کرتی ہے اور نہ کائنات کی کوئی چیز بلکہ جو چیز جہاں پر تھی وہیں پر کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔سورج جس سکتے پر پہنچا تھا اس کی گردش وہیں کی وہیں رہ گئی۔(حضور کو معراج کیسے کرایا گیا