معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 26
26 خیال کے ہیں جن کے اکابر نے یہ گستاخانہ فتوی دیا کہ :- لورعض فكتب الفاتحة بالدم على جبهته وانفه جاز للاستشفاء وبالبول ايضا (رد المحتارعلی در التمار جلد اول صفحه 154 از این عابدین ناشر کتب ماجد یہ کوئه ایضا امداد الفتاوی از تھانوی جلد دوم منفحہ 129 مطبع مجتبائی دہلی 1346 ه ) یعنی (معاذ اللہ ) اگر کوئی شخص نکسیر پھوٹنے پر بطور علاج سورہ فاتحہ کوخون سے لکھ کر اپنے ناک اور چہرے سے لکھ لے تو جائز ہے حتی کہ پیشاب کے ساتھ لکھنا بھی۔فانا اللہ وانا اليه راجعون۔کون سی آنکھیں جو اس کو دیکھ کر روتی نہیں کون سے دل ہیں جو اس غم سے نہیں ہیں بیقرار اس نوع کی ذہنیتوں کے سرچشمہ سے ” اسلام اور سائنس، " قرآن، سائنس اور سائنسی حقائق ) قرآن اور جدید سائنس سائنسی انکشافات“ اور ”حضور کو معراج کیسے کرایا گیا ، جیسی کتا میں پاکستان میں چھپ چکی ہیں۔یہ کتا بیں ایک طرف تحریک احمدیت کے علم تفسیر اور جدید علم کلام کی بازگشت ہیں تو دوسری طرف حیات مسیح کے حوالہ سے معراج کو جسمانی ثابت کرنے کے لئے تالیف ہوتی ہیں۔اس ضمن میں میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ پاکستان کے ایک مایہ ناز سکالر جناب پروفیسر ڈاکٹر فضل کریم سابق صدر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میٹالرجیکل انجینئر زجیسی شخصیت نے جو نوبیل انعام یافتہ اور عالمی شہرت کے معاشی پہلے مسلمان سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام جیسے سفیر توحید کی خدمات کے زیر دست مداح ہیں ، بالکل یہی روش اختیار فرمائی چنانچہ آپ نے اپنی کتاب ” قرآن اور جدید سائنس“ کے صفحہ 197 پر اعتمل رفعه الله اليه ( النساء: 158 ) لکھ کر تیرہ کیا ہے کہ " قرآن اور بائیکل (جدید عہد نامہ ) اس پہلو پر اتفاق کرتے ہیں جیسا کہ مندرج ذیل آتا ہے۔غرض خداوند پوری ( حضرت عیسی علیه السلام ) او