معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 18
18 بڑھ کر اور کوئی عرش عظیم نہیں دیکھتا۔الشیخ الاکبر حضرت محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی معرکہ آراہ اور پُر معارف تصنیف فصوص الحکم میں حضرت ابو یزید بسطامی کا یہ بیان ہمیشہ کے لئے ریکارڈ کر دیا ہے کہ عارف باللہ پر ایسا مقام بھی آتا ہے کہ اگر عرش اور اس کے ماحول کی کائنات دس کروڑ بار بھی اس کے دل کے گوشہ میں سما جائے تو وہ محسوس نہیں کرے گا۔سبحان اللہ جب شہ لولاک کے ادنی غلاموں کے قلوب کا یہ عالم ہے تو قلب محمدی کی غیر محدود اور معجز نما وسعتوں کو خالق حقیقی کے سوا بھلا کون جان سکتا ہے؟؟ عرفان معراج کے لئے نور نبوت کی ضرورت سفر معراج کا ذکر خدائے ذو العرش نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید میں فرمایا ہے اور قرآن ہی کا فیصلہ ہے کہ لا یمسه الا المطهرون یعنی مطہر لوگ ہی اس کا عرفان رکھتے ہیں اور حدیث نبوی میں مظہر سے مراد صاحب الہام نفوس ہیں (جامع الصغیر للسیوطی ) اسی طرح حضرت امام جعفر صادق" جیسی مقدس و برگزیده شخصیت ( جن پر آیات قرآنی کا نزول حضرت خواجہ فرید الدین عطار کی تذکرۃ الاولیاء سے بالید است تو بہت ہے فرماتے ہیں:۔كتاب الله على اربعة اشياء۔العبارة والاشارة واللطائف والحقائق۔فالعبارة للعوام والاشارة للخواص۔واللطائف الاولياء والحقائق للانبياء عرائس البیان جلد 1 صفحہ 3-4 از حضرت الشیخ الکامل باید مد روز جهان ابن علی النصر الی التوفی 1000) یعنی کتاب اللہ چار چیزوں پر مشتمل ہے (1) عبارت (2) اشارت (3) طائف (4) حقائق عبارت عوام کے لئے ، اشارت درگاہ الہی کے خاص مقربوں کے لئے ، لطائف اولیاء کے لئے اور قرآنی حقائق نبیوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔حضرت محی الدین ابن عربی نے اس ضمن میں یہ لطیف نکتہ بھی بیان فرمایا ہے کہ رسول کے مقام کے بارہ میں صرف رسول کو اور نبی کے مقام کے بارے میں صرف نبی کو گفتگو کرنی