معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 17
17 سامنے لائی گئیں تو اس سے حضور کا مرتبہ بلند تر ہو جاتا ہے۔یہی مذہب حضرت سرمد رحمۃ اللہ علیہ کا تھا۔" حضرت سرند ( جو اسی عقیدہ کی بناء پر جامع مسجد دہلی کے سامنے شہید کئے گئے ) پوری عمر پر چم حسین لہراتے اور پوری شان سے یہ فرماتے رہے کہ سرند گوید فلک احمد در شد رود کوثر صفحه 390 391 ) یعنی علمائے ظواہر تو یہ کہتے ہیں کہ محمد مصطفے احمد مجتنے صلی اللہ علیہ وسلم آسمان پر تشریف لے گئے مگر سرمد کہتا ہے کہ خود آسمان حضور کی خدمت میں حاضر کئے گئے۔لیکن تحریک احمدیت کا تصور معراج اس سے بھی بہت بلند، بہت اعلی اور بہت ارفع ہے۔چنانچہ حضرت سید نا اصلح الموعود آیت دنی فتدلی کے تغییری ترجمہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔اور وہ ( یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بندوں کے اس اضطراب کو دیکھ کر اور ان پر رحم کر کے خدا سے ملنے کے لئے ) اس کے قریب ہوئے اور وہ (خدا) بھی ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے شوق میں ) اوپر سے نیچے آگیا۔(تفسیر صغیر سورۃ حجم : 9) بالفاظ دیگر حضرت نظام الدین اولیاء اور حضرت سرمد جیسے اکابر صوفیاء اور مقمربان بارگاہ الہی کے نزدیک تو آسمان آنحضرت کے حضور حاضر ہوئے مگر تحریک احمدیت کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ آسمان اور جنت اور عرش اور قلم ہی نہیں بلکہ عرش کا خدا بھی اپنے محبوب محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشوائی اور استقبال کے لئے نیچے اتر آیا اور قلب محمد پر اس نے اپنے جمال و جلال کے تحت قائم کر لئے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ اسی نکته معرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں۔گرچہ منسوبم کند کس سوئے الحاد و ضلال چوں دلِ احمد نے بینم دگر عرشِ عظیم خواہ کوئی مجھے ملحد اور گمراہ ہی کہ دے مگر میں تو احمدصلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دل سے