معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 13 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 13

13 خاتم النبیین ہو چکا تھا اور آدم علیہ السلام ہنوز اپنے خمیر ہی میں پڑے تھے (یعنی ان کا پتلا بھی تیار نہ ہوا تھا۔(مسند احمد، بیہقی ، حاکم ، مشکلوة - بحوالہ " نشر الطیب" از مولوی اشرف علی صاحب تھانوی صفحه ۷-۸) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اس حقیقت کو عشق رسول میں ڈوبے ہوئے الفاظ اور دلآویز انداز میں یوں بیان فرمایا ہے۔وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو ، وہ ملائک میں نہیں تھا۔نجوم میں نہیں تھا۔قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا۔زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی و سماوی میں نہیں تھا۔صرف انسان میں تھا۔یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاءمحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام) آپ کا یہ عارفانہ شعرای بیان کا لطیف در لطیف خلاصہ ہے۔او طفیل اوست نور ہرنبی نام ہر مرسل بنام او جلی یعنی ہر ایک نبی کا نور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے طفیل ہے اور ہر رسول کا نام حضور ہی کی برکت سے منور ہے۔تین مکاتب فکر قرن اول سے اب تک معراج کی نسبت تین مکاتیب فکر مسلم سکالرز میں مروج ہیں :۔1- حضرت عائشہ ام المؤمنین اور حضرت حسن بصری جیسے اکابر امت کا عقیدہ تھا کہ یہ عالم روحانی میں ہوا اور جیسا کہ یہ ذکر آچکا ہے حضرت ام المؤمنین تو پورے یقین اور جلال سے فرمایا کرتی تھیں کہ دوران معراج آنحضور کا جسد مبارک نہیں تھا۔خادم الرسول حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ معراج کا آغاز دوسرے نبیوں کی مانند ایسی کیفیت