معراج کا شہرہ آفاق سفر

by Other Authors

Page 12 of 57

معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 12

12 آفتاب محمدی ہی کی ضیاء پاشیوں کا ایک درخشندہ پہلو ہے۔المختصر اللہ جل شانہ نے آپ کو سراج منیر کا لقب دے کر معراج کے خاکی اور مادی ہونے کے تخیل کو ضرب کاری لگادی ہے اور اس کے نورانی سفر ہونے پر ابدی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔حضرت مسیح موعود کیا خوب فرماتے ہیں۔آن شده عالم که نامش مصطفی سید آنکه ہر عشاق حق شمس الضحی نورے طفیل نوری اوست اوست آنکه منظور خدا منظور نور محمدی کی ازلی شان آنحضرت ﷺ کے بلند پایہ صحابی حضرت جابر بن عبد الله ( ولادت ۲۰۲ ء وفات ۱۹۲ء ) سے روایت ہے۔میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھ کو خبر دیجئے کہ سب اشیاء سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کون سی چیز پیدا کی۔آپ نے فرمایا اے جابر اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے (نہ بایں معنی کلہ نور الہی اس کا مادہ تھا بلکہ اپنے نور کے فیض سے ) پیدا کیا۔پھر وہ نور قدرت الہیہ سے جہاں اللہ تعالی کو منظور ہو ا سیر کرتا رہا اور اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم تھا اور نہ بہشت تھی اور نہ دوزخ تھا اور نہ فرشتہ تھا اور نہ آسمان تھا اور نہ زمین تھی اور نہ سورج تھا اور نہ چاند تھا اور نہ جن تھا اور نہ انسان تھا۔پھر جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے کئے اور ایک حصے سے قلم پیدا کیا اور دوسرے سے لوح اور تیسرے سے عرش ( مسند عبد الرزاق - بحوالہ "نشر الطیب" از مولوی اشرف علی صاحب تھانوی صفحه ناشر تاج کمپنی لاہور ) دوسری روایت حضرت عرباض بن ساریہ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بیشک میں حق تعالیٰ کے نزدیک