معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 52
52 اذن لقضى لا منهج الناس منهجي ولا ملة القوم الاواخر ملتي دیوان الشیعی ، صفحہ 107 ناشر مطبع لجنة التأليف والترجمة والتبشير 1940ء) (ترجمہ) میرا ظن غالب ہے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اگر ہمارے پاس دوبارہ تشریف لے آئیں تو آپ کو آج بھی اپنی امت کے ہاتھوں اُسی قسم کے مصائب سے دوچار ہونا پڑے گا جس طرح آپ اہل مکہ کے ہاتھوں دو چار ہوئے۔پیغمبر خدا ہمیں دیکھ کر یقیناً یہ فیصلہ کریں گے کہ لوگ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ میرا بتایا ہوا طریق نہیں اور آخری زمانہ کے لوگوں کا مذہب ہرگز میرا مذ ہب نہیں۔یہ عجیب تصرف خداوندی ہے کہ مسلم دنیا کے اسی تاریک ترین دور میں سیدنا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو 1883ء میں بذریعہ رویا بشارت دی گئی کہ عنایت الہیہ مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کی طرف متوجہ ہیں اور یقین کامل ہے کہ اس قوت ایمان اور اخلاص اور توکل کو جو مسلمانوں کو فراموش ہو گئے ہیں پھر خداوند کریم یاد دلائے گا اور بہتوں کو اپنے خاص برکات سے متمتع کرے گا۔(مکتوبات احمدیہ جلد اول صفحہ 20 اشاعت 29 دسمبر 1908ء) زندہ معراج اور زندہ نبی 8 تیسری صدی ہجری کے محدث حضرت ابو بکر بن عمر و حافظ البزار (متوفی 292ھ) نے حضرت علی سے معراج کے باب میں یہ حدیث درج کی ہے کہ رب کریم نے ارشاد فرمایا اے محمد ! یہ آیت پڑھو ھو الذى يصلى عليكم و ملائكته۔۔الخ ( بحوالہ نشر الطيب صفحه 77) مذہبی تاریخ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ مظہر اتم الوہیت ہیں جن پر خدا اور اس کے فرشتے ازل سے ابد تک رحمت بھیج رہے ہیں۔حاجی الحرمین سید نا حضرت مولانا نورالدین خلیفة اسح الاول نے ایک بار درود شریف سے آنحضرت ﷺ کے افضل الرسل اور زندہ نبی ہونے