معراج کا شہرہ آفاق سفر — Page 5
5 تھوڑے ہیں جو اس سے خبر رکھتے ہیں وہ عالم غیب محض ہے جس تک پہنچنے کے لئے عقلوں کی طاقت نہیں دی گئی مگر ظن محض اور اس عالم پر کشف اور وحی اور الہام کے ذریعہ سے اطلاع ملتی ہے اور نہ کسی اور ذریعہ سے اور جیسی عادت اللہ بد یکی طور پر ثابت اور متحقق ہے کہ اس نے ان دو پہلے عالموں کے دریافت کرنے لئے جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے انسان کو طرح طرح کے حواس اور قوتیں عنایت کی ہیں۔اس فیاض مطلق نے انسان کے لئے ایک ذریعہ رکھا ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام اور کشف ہے جو کسی زمانہ میں بکلی بند اور موقوف نہیں رہ سکتا۔ایسا خیال بڑا نا پاک خیال ہے جو یہ سمجھا جائے جو خدائے تعالٰی نے انسان کے دل میں تینوں عالموں کے اسرار معلوم کرنے کا شوق ڈال کر پھر تیرے عالم کے وسائل وصول سے بکلی اسکو محروم رکھا ہے“ رمه چشم آریه حاشیه صفحه ۱۲۷ - ۱۳۸) سائنس اور مذہب کا دائرہ اس وضاحت سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ حقیقی مذہب اور سائنس میں ہرگز کوئی تصادم نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود نے ببانگ بلند یہ نظریہ پیش فرمایا کہ مذہب خدا کا قول ہے اور سائنس اس کا فعل۔نیز پیشگوئی فرمائی۔جس طرح صحیفہ فطرت کے عجائب وغرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں۔یہی حال ان صحف مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالی کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو" نیز فرمایا۔: ازالہ اوہام صفحه ۳۱۲۲۳۰۵) " اس وقت خدا تعالٰی نے مذہب کو ایک سائنس ( علم ) بنا دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ زمانہ کشف حقائق کا زمانہ ہے جبکہ ہر بات کو علمی رنگ میں ظاہر