حضرت میمونہ ؓ

by Other Authors

Page 4 of 23

حضرت میمونہ ؓ — Page 4

حضرت میمونه 4 والوں نے ایک وفد بھجوایا جس نے حضرت علی سے کہا اپنے آقا سے کہئے کہ وہ ہمارے ہاں سے روانہ ہو جائیں کیونکہ قیام کی مدت مکمل ہو چکی ہے۔(5) آنحضرت ﷺ سے کسی طرح بھی معاہدہ کی خلاف ورزی کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی چنانچہ آپ عملے کو بھی اس بات کا علم تھا اور واپسی صلى الله کی تیاری شروع ہو چکی تھی لیکن آپ ملنے کی خواہش تھی کہ اگر حضرت میمونہ کا رخصتانہ بھی مکہ میں ہو تو مکہ والوں سے صلح صفائی اور دوستی کا ماحول بن جائے گا۔امن کی ایک کوشش سے نئی راہیں نکل سکتی تھیں صلى الله اور ہو سکتا ہے دشمنی میں کمی ہو جائے چنانچہ آپ ﷺ نے ان کے وفد سے کہا اگر تم لوگ اجازت دو تو میں یہاں شادی کی تقریب منعقد کر کے کھانے کی دعوت میں آپ سب کو شامل کروں۔اتنی خوبصورت دعوت کا ان بدنصیبوں نے سخت دلی سے انکار کیا۔کیونکہ ان کو خوف تھا کہ صلى الله آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی اچھے اخلاق کی باتیں لوگوں کے دل نہ موہ لیں۔آپ ﷺ نے اپنے معاہدے اور ملکہ کے لوگوں کی خواہش کا خیال فرمایا اور اس بات پر اصرار نہ کیا بلکہ ابورافع " سے فرمایا کہ روانگی الله کا اعلان کر دو اور یہ کہ کوئی شخص یہاں شام تک نہ ٹھہرے آپ عمل خود