حضرت میمونہ ؓ — Page 2
حضرت میمونہ 2 جب آپ ﷺ کا قافلہ مکہ سے نومیل کے فاصلہ پر حدیبیہ کے مقام پر پہنچا تو قریش نے آپ ﷺ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیا اور ایک معاہدہ طے پایا کہ اس سال آپ کے واپس چلے جائیں اور اگلے سال طواف کے لئے آسکتے ہیں۔اس معاہدے کو تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام صلى الله سے یاد کیا جاتا ہے۔اگلے سال آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ ملکہ کے سفر کی تیاری شروع کی جائے اور خاص طور پر حد بیبیہ تک جا کر واپس لوٹ آنے والے ضرور اس سفر پر جا ئیں۔(1) آپ ﷺ کو احساس تھا کہ جنہوں نے اُس وقت تکلیف اُٹھائی تھی اب خوشی بھی دیکھیں۔اس سفر میں آپ میں اللہ کے ساتھ اُم المؤمنین حضرت ام سلمی بھی تشریف لے گئیں۔اور آپ معدے ایک خیمہ میں تین دن ٹھہرے۔ایک دن آپ اللہ کے چچا حضرت عباس نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کی بیوی ام الفضل کی بہن بیوہ ہیں اگر آپ ﷺ پسند فرما ئیں تو اُن سے شادی کر لیں۔آنحضرت ﷺ نے اس درخواست کو قبول فرمایا اور حضرت جعفر کو رشتہ کا پیغام دے کر حضرت میمونہ کے پاس بھیجا۔حضرت میمونہ نے مشورے اور اجازت کے لئے اپنے بہنوئی حضرت عباس کے سامنے یہ رشتہ پیش کیا جو فورا مان گئے۔صلى الله