حضرت میمونہ صوفیہ صاحبہؓ

by Other Authors

Page 11 of 20

حضرت میمونہ صوفیہ صاحبہؓ — Page 11

استانی میمونه صوفیه بھی قائم کرتی رہیں۔11 قیام پاکستان کے بعد آپ قادیان سے ہجرت کر کے اپنی بیٹی محترمہ صادقہ لطیف صاحبہ کے پاس کراچی چلی گئیں۔استانی جی کو صدر لجنہ اماءاللہ کراچی منتخب کیا گیا اور بیگم چوہدری بشیر احمد صاحب نائب صدر مقرر ہوئیں۔25 اپریل 1949 کو ربوہ میں نصرت گرلز سکول کا اجراء ہوا تو آپ کراچی سے ربوہ آگئیں اس کے بعد وقتا فوقتا کراچی جاتی رہیں۔31 مئی 1950 کو لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے دفتر کی بنیاد رکھنے کے موقع پر آپ نے حضرت اقدس بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ( رفیق ) بزرگ خاتون ہونے کی حیثیت سے اور لجنہ کی کارکن ہونے کی حیثیت سے دعا نے کی حیثیت سے د کے ساتھ بنیاد میں اینٹ رکھی۔آپ خدمت خلق کے کاموں میں بھر پور حصہ لیتی رہیں۔لجنہ کی طرف سے مستحقین کے لئے لحاف بنانے ہوتے یا عید کے موقع پر کپڑے تقسیم کرنے ہوتے تو کپڑا خرید کر لانے کی ذمہ داری آپ کے سپرد ہوتی جسے آپ احسن طور پر ادا کرتی رہیں۔لجعہ مرکز یہ کے قیام کے 50 سال پورے ہونے پر کارکنات کو سندات خوشنودی دی گئیں تو آپ کا نام سر فہرست تھا۔آپ نے حقیقت میں دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر 1922 میں کئے