حضرت میمونہ صوفیہ صاحبہؓ — Page 5
استانی میمونه صوفیه 5 اور ان کی اہلیہ بُو زینب بیگم صاحبہ کا سایہ اور تربیت بھی نصیب ہوئی اور خود مختار زندگی بھی۔اس سے قبل 1918ء سے مدرستہ البنات قادیان میں ملازمت اختیار کر کے استانی جی نے پڑھانا شروع کر دیا تھا۔آپ طالبات کی علمی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ اُن کی دینی واخلاقی تربیت پر بھی بہت زور دیتی تھیں۔قرآن مجید سے عشق کی حد تک پیار تھا اور بلند آواز میں خوش الحانی سے تلاوت کرنا اُن کا شوق تھا۔آپ نے ان گنت لڑکیوں کو قرآن مجید پڑھایا۔آپ دور کھڑے ہوئے تلاوت کرنے والی بچی کے لیوں کی جنبش سے ہی تلفظ کی غلطی پکڑ لیتی تھیں۔آپ کو یہ شرف بھی حاصل تھا کہ گو آپ نے باقاعدہ حفظ نہیں کیا تھا محض کثرت تلاوت کا نتیجہ تھا کہ خدا کا کلام ذہن نشین ہو گیا تھا۔دسمبر 1922 ء میں حضرت مصلح موعود نے لجنہ اماءاللہ کی بنیا د رکھی تو آپ کو بھی ابتدائی 14 ممبرات میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔جو عہد ان ممبرات نے باندھا وہ آخر وقت تک نبھایا۔یہ چودہ ممبرات نبیاد تھیں لجنہ اماءاللہ کی اور گویا اسے پہلی مجلس عاملہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ان میں سے عہد ارار چکنی گئیں۔