حضرت میمونہ صوفیہ صاحبہؓ — Page 4
استانی میمونه صوفیه میں شفٹ ہو گئے لیکن بیماری بڑھتی ہی گئی 22 فروری 1926 ء کو الہی تقدیر پوری ہوئی اور حکیم صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے۔آپ کا وصیت نمبر 2 تھا اور آپ بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے۔آپ کی قبر پر لگا کتبہ یہ کہ رہا ہے کہ یہ آرام گاہ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے جیتے شاگرد حکیم مولوی غلام محمد صاحب کی ہے۔" استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کے شوہر خود حکیم تھے۔بیماری کے لمبا ہونے اور غالبا خواب کے ذریعے کچھ اشارہ ملنے پر وفات سے قبل اپنی بیوی اور اولاد کے بارے میں وصیت کر دی تھی۔جس کی رو سے اور باہمی رضا مندی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے حضرت مرزا شریف احمد صاحب اُن کے ولی مقرر ہوئے۔حکیم صاحب کی وفات کے بعد آپ نے فیصلہ کیا کہ جوان بیوہ اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی نگرانی دور رہ کر کرنا مشکل ہے اس لئے استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کو محلہ دار الفضل قادیان کے ذاتی مکان کو کرایے پر اُٹھا کر اُن کو اپنی کوٹھی کی چار دیواری کے اندر ایک علیحد و حصہ (independent portion) رہنے کے لئے دے دیا جس کا ایک دروازہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی کوٹھی میں کھلتا تھا اور ایک باہر کی طرف۔یوں استانی جی اور ان کے بچوں کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب