حضرت میمونہ صوفیہ صاحبہؓ

by Other Authors

Page 3 of 20

حضرت میمونہ صوفیہ صاحبہؓ — Page 3

استانی میمونه صوفیه 3 زندگی بسر کرنے کا موقعہ ملے۔یہ دعا یقینا سچے دل سے مانگی گئی تھی کیونکہ چندرو سال کی عمر میں ہی استانی میمونہ صوفیہ صاحب، حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے چہیتے شاگر دحکیم غلام محمد صاحب کی دلہن بن کر قادیان آگئیں۔استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ ایک کامیاب اور صاحب حیثیت تاجر کی لاڈلی بیٹی تھیں جس نے گھر میں ہر قسم کی فراخی دیکھی تھی لیکن اس نیک خاتون نے اس فراخی کے بدلے دیار حبیب میں سادگی سے رہنے کو تر جیح ترجیح دی۔اللہ تعالیٰ نے استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کو ایک بیٹے غلام احمد عطا صاحب واقف زندگی اور ایک بیٹی صادقہ بیگم صاحبہ سے نوازا۔وقت بہت سکون سے گزر رہا تھا لیکن اس نیک اور سادہ خاندان کے لئے اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔آپ کے خاوند حکیم غلام محمد صاحب حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر شدھی کی تحریک کو روکنے کے لئے مختلف دیہاتوں میں جاتے۔ان سفروں کے دوران آپ بیمار رہنے لگے ، ہر طرح کا علاج ہوا۔استانی جی نے بہت خدمت کی لیکن خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا۔کمزوری بڑھ گئی تو حکیم غلام محمد صاحب نے اپنے مطب میں بیٹھنا بھی چھوڑ دیا۔ایسے کڑے وقت میں اللہ تعالیٰ نے استانی جی کو بڑی جرأت سے یہ فیصلہ کرنے کی ہمت عطا کی کہ بڑے گھر کو کرایے پر اُٹھا کر چھوٹے گھر